وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر نائب صدر چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، پولیس کی استعداد میں کمی، سکیورٹی انتظامات میں خامیوں اور صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کے باعث امن و امان کی صورتِ حال تشویش ناک ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں وفاقی کابینہ کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی سے متعلق صدرِ مملکت کو ایڈوائس بھجوانے کی نوبت آئی۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس نے صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور سکیورٹی انتظامات کی مؤثریت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کیے۔ ان کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز کو اب روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں اور بارودی مواد کے ذریعے کیے جانے والے حملوں جیسے نئے چیلنجز کا بھی سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مؤثر نگرانی کے نظام کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پولیس کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا، جنوبی اضلاع میں سکیورٹی اہلکاروں کو جدید سازوسامان فراہم کرنا اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھائے بغیر پائیدار امن کا قیام مشکل ہوگا، اس لیے سکیورٹی اداروں کو درپیش انتظامی اور مالی مسائل کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
چوہدری سالک حسین نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے گزشتہ دس برسوں میں فراہم کیے گئے 800 ارب روپے کے فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم کی فراہمی کے باوجود سکیورٹی اداروں کے وسائل، انتظامات اور کارکردگی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان فنڈز کے استعمال، اخراجات کی ترجیحات اور سکیورٹی انتظامات کا شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ دستیاب وسائل کو کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات پر حاوی نہیں ہونا چاہیے اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو جدید وسائل کی فراہمی اور انٹیلی جنس معلومات کے مؤثر تبادلے کے ذریعے سکیورٹی صورتِ حال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ معصوم بچوں، پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ امن کے قیام کو ہر سیاسی اور انتظامی ترجیح پر فوقیت دی جائے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
چوہدری سالک حسین نے واضح کیا کہ ایمرجنسی سے متعلق وفاقی حکومت کے اقدام کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا اس کے سیاسی مینڈیٹ کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ان کے بقول بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کا مؤثر حل تلاش کرنا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کی بہتری کے لیے سیاسی محاذ آرائی کے بجائے ادارہ جاتی تعاون، بہتر انتظامی کارکردگی اور وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی محض ایک صوبائی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سکیورٹی اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔