روس سے تیل کی رسد میں اضافے کی توقعات اور توانائی تنصیبات پر حملے رکنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔عالمی توانائی مارکیٹ میں تجارت کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1 ڈالر 37 سینٹ یعنی 1.31 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 103.35 ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 1 ڈالر 30 سینٹ یعنی 1.42 فیصد کمی کے بعد 90.55 ڈالرز فی بیرل پر آ گئی۔
روس اور یوکرین کے مابین توانائی تنصیبات پر معاہدہ
اس قیمت میں کمی کی سب سے بڑی وجہ روس سے تیل کی رسد کے حوالے سے پیدا ہونے والی مثبت توقعات ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ یوکرین اور روس نے ایک دوسرے کی اہم توانائی تنصیبات پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس سفارتی پیش رفت نے عالمی منڈی میں اس خدشے کو کم کر دیا ہے کہ جنگی حالات کی وجہ سے روسی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سکون دیکھا گیا۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور قیمتوں کا تناسب
اگرچہ روس اور یوکرین کے محاذ پر بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم دنیا کے دوسرے حساس خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جاری جنگی صورتحال اور تناؤ کی وجہ سے سپلائی کے خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
یہی وجہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تمام تر کوششوں کے باوجود 100 ڈالرز فی بیرل سے اوپر ہی محصور رہی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی توانائی منڈی کا مستقبل کا زاویہ
عالمی توانائی منڈی کا یہ منظر نامہ اس پیچیدہ توازن کی عکاسی کرتا ہے جو اس وقت رسد اور طلب کے درمیان قائم ہے۔
ایک جانب دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث توانائی کی طلب میں محتاط رویہ پایا جاتا ہے، تو دوسری جانب جغرافیائی سیاسی تنازعات سپلائی چین کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کے نزدیک، اگر روس سے تیل کی ترسیل بلا تعطل بحال رہتی ہے تو یہ عالمی سطح پر انرجی انڈسٹری اور صنعتی سیکٹر کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگا، تاہم مشرق وسطیٰ کے حالات اس میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔