انتخابی فہرستوں کے خلاف احتجاج ،یوٹیوبر اور بالی ووڈ اداکار حراست میں

انتخابی فہرستوں کے خلاف احتجاج ،یوٹیوبر اور بالی ووڈ اداکار حراست میں

بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف احتجاج کے دوران معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی اور بالی ووڈ اداکار عمران خان کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ نئی دہلی میں سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی سمیت تقریباً 1,500 افراد کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھروو راٹھی نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام احتجاج میں شرکت کرنے والے تھے۔ پولیس مبینہ طور پر گروگرام میں ان کی رہائش گاہ پہنچی اور انہیں دہلی جانے سے روکا۔ رپورٹس کے مطابق انکار پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:فلموں کے ایکشن ہیرو جیکی چن اب باسکٹ بال کورٹ میں بھی چھا گئے

دوسری جانب بالی ووڈ اداکار عمران خان کو 10 اکتوبر کو ممبئی میں اسی احتجاجی مہم کے دوران پولیس نے حراست میں لیا۔ 43 سالہ اداکار نے پولیس وین کے اندر سے اپنی سیلفی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے ساتھ طنزیہ کیپشن لکھا، ’’میں ڈرائیو پر جا رہا ہوں۔‘‘ عمران خان اس سے قبل بھی سیاسی اور سماجی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

پولیس اور احتجاجی جماعت کے مؤقف میں اختلاف

سی جے پی نے پولیس کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اختلافی آوازیں دبانے کی کوشش قرار دیا۔ ممبئی پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے لیے باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی اور ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت شہر میں مظاہروں کے لیے آزاد میدان مقرر ہے۔ تاہم سی جے پی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ای میل کے ذریعے اجازت طلب کی تھی، لیکن پولیس کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہروں کے باعث میٹرو اور ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:نیلم منیر نے بیٹے کے ساتھ پہلی تصویر شیئر کردی، نام بھی سامنے آگیا

انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کیوں متنازع ہے؟

سی جے پی انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمیشن کے اندر انتخابی فہرستوں سے متعلق اختلافات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران دیگر حکام نے چیف الیکشن کمشنر کے 14 فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے۔

دھروو راٹھی اور عمران خان کی حراست، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور انتخابی عمل سے متعلق الزامات نے بھارت میں احتجاج اور آزادی اظہار کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پولیس کارروائیوں سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

editor

Related Articles