’’پی ٹی آئی کا شو ختم‘‘ شہدا اور سپہ سالار کے مخالفین کو فیصل واوڈا کی زبان کھینچنے کی دھمکی

’’پی ٹی آئی کا شو ختم‘‘ شہدا اور سپہ سالار کے مخالفین کو فیصل واوڈا کی زبان کھینچنے کی دھمکی

سینیٹر فیصل واوڈا نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کا سیاسی شو ختم ہو چکا ہے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا، جو سپہ سالار اور شہدا کے خلاف زبان درازی کرے گا اس کی زبان کھینچ لی جائے گی۔

منگل کو اسلام آباد پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی کا شو اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس کا پارٹ ون آ گیا ہے جبکہ پارٹ ٹو، تھری، فور اور فائیو بھی آنے والے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے کابینہ کے لوگ اس وقت ان کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے اور ان کے درمیان اسمگل شدہ گاڑیوں کے معاملے پر بھی آپس میں لڑائیاں ہو رہی ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ گرفتاریاں کرانے کے لیے وہ خود سامنے آ رہے ہیں کیونکہ ان کے درمیان پیسوں کا تنازع چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹر فیصل واوڈاکل دن تین بجے اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کریں گے

انہوں نے تنقید کی کہ کس نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ لیڈر نہیں تو پاکستان نہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، دشمن ہمیشہ زلیل و خوار ہوا۔

کے پی میں 13 سالہ تباہی

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبے میں مخصوص ذہنیت کے حامل لوگوں کی مسلسل 13 سال حکومت رہی ہے، لیکن ان سالوں میں وہاں تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا عوام کا صوبہ ہے کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے اور صوبے میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وہاں ایمرجنسی کا نفاذ کرنا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ اب ناکامی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے، اگر یہ نیا سیٹ اپ بھی ناکام ہوا تو دوسرے آئیں گے اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو اب عملی طور پر کام کر کے دکھانا ہوگا۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اگلے 60 دن کے اندر زمین پر مثبت نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے کیونکہ عوام اب خالی نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر ساتھ دے گی۔

پاک فوج کی قربانیاں اور سخت انتباہ

سپہ سالار اور پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ہمیں اپنے سپہ سالار اور شہدا کی قدر کرنی چاہیے جو ملک کو کامیابیاں اور قربانیاں لا کر دے رہے ہیں۔

انہوں نے سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ جو بھی سپہ سالار یا ہمارے شہیدوں کے خلاف بکواس کرے گا، ہم اس کی زبان کھینچ کر جوتی کی سول بنائیں گے اور اس معاملے میں اب کسی بھی قسم کے ‘اِف اینڈ بٹ’ کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گے، ان کی نسلیں تباہ کر دیں گے، کیونکہ ملک اور صوبہ کسی کے باپ کا نہیں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ملک میں پاک فوج اور پولیس اہلکاروں سمیت 7500 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا ہے، لہٰذا اب شہدا کی توہین ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

سیاسی اتحاد اور مستقبل کا لائحہ عمل

سیاسی مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر صدر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو بریفنگ دی جائے گی اور پاکستان کی ترقیاتی و سیاسی عمل میں یہ دونوں بزرگ رہنما ہمارے ساتھ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہمارے پرانے ذاتی تعلقات بھی ہیں اور خیبر پختونخوا کے ذریعے ملک میں سسٹم کو ری بوٹ یا ری سٹارٹ کرنے کے آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے تنقید کی کہ پچھلے 75 سالوں سے جمہوریت کے نام نہاد دعویداروں نے ملک کا بھٹہ بٹھا دیا ہے اور جمہوریت کی لاش پر اپنا سیاسی کریڈٹ لیتے رہے ہیں، لیکن اب عوام اسی کا ساتھ دیں گی جو عملی طور پر کچھ کر کے دکھائے۔

مزید پڑھیں:ہماری سیاست نے نظام کو کھوکھلا کردیا،فیلڈ مارشل امید کی کرن بن کر سامنے آئےہیں، فیصل واوڈا

 واضح رہے کہ ملکی سیاسی منظر نامے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی نااہلی، سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور دہشتگردانہ واقعات کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک بہت بڑا سیاسی موڑ ہے۔

اس تناظر میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات، وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بحث، اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ سیاسی صف بندیاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، جس سے ملک میں ایک نیا سیاسی ہلچل کا دور شروع ہو چکا ہے۔

فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس سے یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ ریاست اب خیبر پختونخوا کے معاملے پر روایتی مفاہمت کی پالیسی سے ہٹ کر سخت انتظامی اور سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کے موڈ میں ہے۔

ایک طرف پی ٹی آئی کی نااہلی اندرونی خلفشار کو بے نقاب کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تو دوسری طرف پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام جیسے روایتی حریفوں کے ساتھ مل کر ایک نیا سیاسی بندوبست تشکیل دینے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔

Related Articles