بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور انتقامی کارروائیوں سے متعلق ایک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں کولکتہ کی مسلم آبادی جیوتی نگر کالونی میں پانی کی فراہمی بند ہونے کے بعد تقریباً 5 ہزار افراد پینے کے پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔ متاثرہ آبادی کو پانی کی فراہمی بحال کرانے کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نو منتخب رکن اسمبلی رتیش تیواری نے اعلان کیا ہے کہ انہیں ووٹ نہ دینے والے مسلمانوں کے کام نہیں کیے جائیں گے اور ان کے خلاف حساب کتاب کا عمل آئندہ 5 برس تک جاری رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں پانی کی سپلائی بند ہونے کے باعث مقامی مسلمان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں پینے کے لیے پانی حاصل کرنے کی خاطر دور دراز علاقوں سے آلودہ پانی لانا پڑ رہا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میونسپلٹی نے مرمت کا جواز پیش کرتے ہوئے رات کے وقت پانی کی فراہمی بند کی، تاہم ملحقہ ہندو آبادی میں پانی کی سپلائی مسلسل جاری ہے۔ اس صورتحال نے پانی کی منصفانہ فراہمی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان سمیر الاسلام نے مقامی حکام، ریاستی حکومت اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے باوجود شنوائی نہ ہونے پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے، جس میں متاثرہ آبادی کے لیے پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سینئر صحافی سوبجیت باگجی کے مطابق ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم مخالف سیاست میں خطرناک حد تک شدت آئی ہے۔
جیوتی نگر کالونی میں پانی کی بندش کے اس واقعے نے بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق، پینے کے صاف پانی تک رسائی اور شہری سہولتوں کی غیر امتیازی فراہمی سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔