13 سال بدامنی کا عذاب سہنے والی پولیس  کو گورنر نے 48 گھنٹوں میں تاریخی ریلیف پیکج دے دیا

13 سال بدامنی کا عذاب سہنے والی پولیس  کو گورنر نے 48 گھنٹوں میں تاریخی ریلیف پیکج دے دیا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی پولیس فورس کے شہداء، زخمی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے معاوضوں اور مالی مراعات میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

 اس پیکج کے تحت شہداء کے ورثاء کے لیے معاوضوں میں کروڑوں روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ زخمی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے بھی خصوصی مالی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے،یہ اقدامات پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کے اعتراف اور ان کے خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

شہداء کے معاوضوں میں بڑا اضافہ
نئے پیکج کے تحت کانسٹیبل سے انسپکٹر تک پولیس اہلکاروں کے شہادت کے معاوضے کو تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کردیا گیا ہے،ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے لیے معاوضہ ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کے افسران کے لیے 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے یہ رقم بڑھا کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔

پلاٹ کے بجائے کروڑوں روپے کی مالی معاونت
شہداء کے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت کے نظام میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پلاٹ کی الاٹمنٹ کے بجائے ورثاء کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق گھر تعمیر کرسکیں یا خرید سکیں۔

نئے پیکج کے مطابق کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے اہلکاروں کے ورثاء کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے، ڈی ایس پی اور اے ایس پی کے ورثاء کو 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، گریڈ 18 اور 19 کے افسران کے ورثاء کو 3 کروڑ 50 لاکھ روپے، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے ورثاء کو 7 کروڑ روپے دیے جائیں گے،اس اقدام سے اہلِ خانہ کو پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لیے طویل انتظار سے نجات مل سکے گی اور وہ اپنی رہائش کا بندوبست خود کرسکیں گے۔
زخمی اہلکاروں کے لیے معاوضے میں دس گنا اضافہ

ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے بھی مالی امداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، مستقل معذوری کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردیا گیا ہے، جبکہ دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کا پیکج ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔

اہلِ خانہ اور شہداء کی بیٹیوں کے لیے خصوصی پیکج
پیکج میں پولیس اہلکاروں کے قریبی خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت شامل ہے، شریکِ حیات یا بچوں کی وفات کی صورت میں 50 لاکھ روپے، جبکہ والد، والدہ، بھائی یا بہن کی وفات پر 30 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے،اس کے علاوہ شہداء کی بیٹیوں کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے بطور خصوصی تحفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لیے معاونت بھی پیکج کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گورنر راج کے بعد وزیرستان سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے کا سلسلہ شروع، مارٹر گولوں کی بمباری کا دعویٰ من گھڑت

تنخواہوں میں اضافے اور نئی بھرتیوں کی ہدایت

گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں مزید اضافے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات بھی جاری کی ہیں، تاکہ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہیں دوسرے صوبوں کے برابر یا ان سے بہتر بنائی جاسکیں۔

پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتیوں اور کارپوریٹ اداروں و بینکوں کے تعاون سے فلاحی اقدامات کے لیے مربوط نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد اہلکاروں پر کام کا اضافی بوجھ کم کرنا اور عوام کے تحفظ کے لیے مطلوبہ نفری کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ اس پیکج میں پولیس کے شہداء کے خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے، زخمی اہلکاروں کی مدد کرنے اور فورس کی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے متعدد اقدامات شامل ہیں۔

editor

Related Articles