مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو خراب کیا، جبکہ نئے سیٹ اپ کی اولین ترجیح پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو مضبوط کرکے صوبے میں امن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کارڈ برقرار رہے گا، عوامی فلاح کے منصوبے سیاسی بنیادوں پر بند نہیں کیے جائیں گے اور سرکاری وسائل کی خردبرد کے شواہد سامنے آنے پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
آزاد سیاست پوڈ کاسٹ میں میزبان سلمان درانی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ انہیں ایمرجنسی کے نفاذ کی توقع نہیں تھی۔ وہ اپنی سیاسی جماعت کی میڈیا ٹیم کا حصہ ہونے کی حیثیت سے مذاکرات کو قریب سے دیکھ رہی تھیں اور کئی شرکا اس بات پر پُرامید تھے کہ خیبر پختونخوا کے عوام، ریاست، پولیس اور وفاقی حکومت کے لیے باعثِ تشویش معاملات پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رات تین بجے تک متعلقہ جماعت کے چیئرمین، جنرل سیکرٹری، علامہ راجہ ناصر اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت ایک ایک نکتے پر بات کرتی رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے اس پیش رفت کو خراب کیا، جس کے بعد حالات مزید بگڑ گئے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ صوبے کی صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ وہاں رہنے والے لوگ دہشت گردی، بھتہ خوری اور چھین جھپٹ کے اثرات سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق شہری خوف کے باعث گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں بچوں کے بحفاظت اسکول سے واپس آنے تک کی فکر لاحق رہتی ہے۔
اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 47 ہزار افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی دہشت گردی سے متاثر ہوئی ہیں اور ان کے بچوں کے سر سے والد کا سایہ اٹھ جانے سمیت ذاتی نقصانات کا کوئی نعم البدل نہیں۔
انہوں نے شہدا کی قربانیوں کے احترام، ان کے جنازوں میں شرکت اور متاثرہ خاندانوں کی خبرگیری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیواؤں اور یتیم بچوں کی مدد حکومت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ہر خاندان مالی طور پر خود کو سنبھالنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
حکومت کے خاتمے کے بعد عوامی ردعمل سے متعلق ثمر ہارون بلور نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ لوگ باہر نہیں نکلیں گے۔ ان کے مطابق بڑے دعوؤں کے باوجود زمینی سطح پر تیاری نہیں تھی۔ انہوں نے مارچ میں محدود شرکت کو عدلیہ کی جانب سے فنڈنگ پر پابندی سے بھی منسوب کیا اور کہا کہ جماعت کے بڑے عہدے دار بھی مؤثر شرکت نہیں کر سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اپنی تقرری کے نوٹیفکیشن کے بعد اتوار کی رات پشاور میں سفر کے دوران بعض مقامات پر کنٹینرز موجود تھے، تاہم خاندان باہر نکلے ہوئے تھے اور شہر میں معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور پولیس میں تبدیلی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
مشاورتی کونسل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں سنجیدہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد شامل ہیں، جو کسی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے بجائے صوبے کو مشکلات سے نکالنے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گومل یونیورسٹی، مردان یونیورسٹی اور ریڈیو اسٹیشنوں کی بحالی سمیت متعدد تجاویز موصول ہو رہی ہیں، جبکہ چترال میں ایک بنیادی مرکزِ صحت کی خستہ حالی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو جنگی بنیادوں پر مضبوط کرنا ضروری ہے، کیونکہ امن کے بغیر تعلیمی ادارے، کاروبار اور سرمایہ کاری آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو درپیش وسائل کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر اہلکار بجلی، جنریٹر اور گاڑیوں کے ایندھن کی قلت کے باوجود حملوں اور محاصروں کا سامنا کرتے ہوئے فرائض انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی کے عناصر بھارتی فنڈنگ سے حاصل کردہ ہتھیاروں اور جدید نائٹ ویژن آلات سے لیس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور اہلکاروں کو مناسب وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔
محکموں کی کارکردگی اور مالی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مشیر نے اپنے محکمے کا چارج سنبھال لیا ہے اور مختلف معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، تاہم عوام کا پیسہ خردبرد کرنے والوں کا محاسبہ ہوگا۔ ان کے مطابق شواہد ملنے پر انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
محکمہ معدنیات کے حوالے سے ثمر ہارون بلور نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران کن افراد کو کتنی کانیں اور لائسنس دیے گئے اور ان کے کن شخصیات سے خاندانی تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بعض افراد کے رشتہ داروں کو ہزاروں لائسنس جاری کیے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ معدنیات کے شعبے میں لائسنسوں کی تقسیم کھلی چھوٹ کے انداز میں ہوتی رہی اور جیڈ و نیفرائٹ کی کانوں کی بلیک مارکیٹ میں الگ الگ قیمتیں تھیں۔ انہوں نے پتانگ صاحب اور گنڈاپور صاحب کے قریبی لوگوں کے ان معاملات میں سرگرم ہونے کا بھی الزام لگایا۔
معدنیات امریکہ کو دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے ایسے بیانیے کو عوام کو الجھانے اور اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس کے خلاف شواہد ثابت ہوئے اسے رعایت نہیں ملے گی، جبکہ کسی بے قصور شخص کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
غیر قانونی اسلحے سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف اسلحے تک محدود نہیں، بلکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 14 سے 18 ماہ کے دوران اسمگل شدہ گاڑیوں، سگریٹوں، خام مال اور منشیات کی نقل و حمل روکنے والے کسٹمز اہلکار دہشت گردوں کے نشانے پر آتے رہے ہیں۔ انہوں نے ان اہلکاروں کو بہتر ہتھیار، تحفظ اور دیگر فورسز کے ساتھ مؤثر رابطہ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
باڑہ میں پیش آنے والے واقعے پر ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا کہ عبدالغنی آفریدی نے ایک مجمع کی قیادت کی، تاہم سرکاری اور بعض نجی عمارتوں کے قریب پہنچنے کے بعد وہ موٹر سائیکل پر وہاں سے چلے گئے۔ ان کے مطابق ہجوم نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور امن و امان بحال کرنے کی کارروائی کے دوران محدود تصادم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی بنیاد پر پورے صوبے کے حالات خراب قرار نہیں دیے جا سکتے اور ان کے مطابق باڑہ سمیت خیبر پختونخوا میں امن و امان قائم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر کارکنوں، ریاست اور پولیس کو آمنے سامنے لا کر خون خرابہ چاہتے ہیں، جبکہ پولیس محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ گرفتار افراد میں تقریباً نصف تعداد افغان شہریوں کی بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے واقعے کے پیچھے سہیل آفریدی کی منصوبہ بندی ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور کہا کہ امن و امان خراب کرنے میں ملوث غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔
عوام سے رابطے اور شفافیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ کام منصفانہ اور شفاف انداز میں کیا جائے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے وقت ضائع کیے بغیر مسلسل کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے عوام سے تعاون اور تجاویز دینے کی اپیل بھی کی۔
صحت کارڈ کی بندش سے متعلق اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برکی صاحب کو فارغ اور ایم ٹی آئی کو ختم کیا گیا ہے، تاہم صحت کارڈ برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بی آر ٹی کی بسیں پنجاب منتقل کرنے اور انہیں مختلف رنگ میں رنگ کر مریم بی بی کی تصویر لگانے کی اطلاعات کو بھی غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایکس پر صحت کارڈ سمیت متعدد خبروں کی تردید کی ہے۔
انہوں نے محکمہ صحت کو خستہ حال قرار دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ ڈاکٹر طویل عرصے تک اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور ہڑتالیں کرتے رہے ہیں۔
بی آر ٹی اور دیگر فلاحی منصوبوں کے مستقبل سے متعلق انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولت ملنی چاہیے اور کوئی منصوبہ صرف اس وجہ سے بند نہیں کیا جائے گا کہ اسے کسی دوسری سیاسی جماعت یا رہنما نے شروع کیا تھا۔ انہوں نے پرانی تختیوں کی جگہ نئی تختیاں لگانے کی بھی نفی کی اور کہا کہ ان کے سسر بلور صاحب کی شہادت کے بعد ان کی یاد میں لگائی گئی تختیاں ہٹا کر دوسرے افراد کے نام لگا دیے گئے تھے۔
نامکمل اسپتالوں، یونیورسٹیوں اور دیگر منصوبوں کے بارے میں ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پہلے امن قائم کرنا اور پولیس کو مضبوط بنانا ضروری ہے، جس کے بعد دستیاب وقت اور گنجائش کے مطابق دیگر کام آگے بڑھائے جائیں گے۔
انہوں نے صوبے کی بحالی اور سیاحت و سرمایہ کاری کے لیے کوئی غیر حقیقی مدت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور بدعنوانی نے خیبر پختونخوا کو اندر سے کمزور کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی محرومیاں دور کی جائیں گی اور اسے پورے پاکستان کی ایک مثالی فورس بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
