سیکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی، چاغی کو تباہی سے بچا لیا،فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ برآمد

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی، چاغی کو تباہی سے بچا لیا،فتنہ الہندوستان کے  2 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ برآمد

بلوچستان کے علاقے چاغی میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن کے قبضے سے ایس ایم جی، راکٹ لانچر، پستول اور موبائل فونز برآمد کر لیے گئے، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے پولیس پر فائرنگ کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے ان کا تعاقب کیا۔ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں دہشتگرد مارے گئے۔

کارروائی کے دوران ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے ایس ایم جی، راکٹ لانچر اور پستول سمیت اسلحہ برآمد کیا گیا، جبکہ ان کے موبائل فونز بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان بدلے گا تو ایسے، نواں کلی میں جدیدہسپتال کی تعمیر عوامی خدمت کی نئی مثال

علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ دہشت گرد زاہد گل ہلاک ہوگیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد کا تعلق گل بہادر گروپ سے تھا اور وہ دہشت گردی کے متعدد سنگین واقعات میں مطلوب تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ پہلا بڑا آپریشن ہے۔ کارروائی ایف آر لکی مروت میں کی گئی، جس میں دہشت گرد گروہ کے اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔

سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کے مطابق زاہد گل پرانے کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور اس میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس نے بارود سے بھری خودکش گاڑی کو حملے کے مقام تک پہنچانے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

حکام کے مطابق زاہد گل دہشت گردی کے دیگر واقعات میں بھی سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور اسے انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد بلی تنگ میں بینک ڈکیتی کی واردات میں بھی ملوث تھا، جس کے دوران مبینہ طور پر 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زاہد گل نے ڈکیتی سے حاصل ہونے والی رقم بنوں کے علاقوں بکا خیل اور جانی خیل میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے کارندوں میں تقسیم کی تھی۔

Related Articles