اقوام متحدہ کی خوفناک وارننگ، دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بے نقاب کر دیا

اقوام متحدہ کی خوفناک وارننگ، دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بے نقاب کر دیا

دنیا بھر میں مسلح تنازعات خواتین اور لڑکیوں کے لیے پہلے سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تنازعات میں ہلاک ہونے والے شہریوں میں ہر چار میں سے ایک خاتون یا لڑکی تھی۔ یہ تناسب 2021 کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگوں کے اثرات صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں رہے۔ جنسی تشدد، زچگی کے دوران اموات، غربت اور بنیادی سہولتوں کی تباہی نے خواتین اور بچیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ہلاکتوں میں اضافہ

اقوام متحدہ کی خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مسلح تنازعات میں 37 ہزار سے زائد شہری مارے گئے۔ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں روزانہ کم از کم 25 خواتین اور لڑکیاں جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 75 کروڑ خواتین اور لڑکیاں فعال تنازعات والے علاقوں سے 50 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر رہتی ہیں۔ یہ تعداد 2024 کے مقابلے میں چار کروڑ زیادہ ہے اور 1990 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیارادزائی گومبونزوانڈا نے نیویارک میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ خواتین اور لڑکیوں کے لیے زیادہ مہلک ہوتی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق جنگ اب ایسی حقیقت بن چکی ہے جسے خواتین نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ اس کے اثرات ان کے گھروں اور روزمرہ زندگی تک پہنچ چکے ہیں۔

جنسی تشدد میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق 2025 میں اقوام متحدہ نے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے 9 ہزار 788 واقعات کی تصدیق کی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ اور 2022 کے مقابلے میں تقریباً چار گنا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستانیوں کے لیے اقوام متحدہ میں ملازمتوں کے مواقع، متعدد شعبوں میں بھرتیاں

ہیٹی میں جنسی تشدد کے رپورٹ شدہ واقعات میں 163 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار تنازعات کے دوران خواتین اور لڑکیوں کو درپیش خطرات کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں امن مذاکرات میں خواتین کی محدود نمائندگی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ خواتین جنگ کے تباہ کن نتائج برداشت کرتی ہیں، لیکن تنازعات کے حل کے لیے ہونے والی بات چیت میں انہیں خاطر خواہ جگہ نہیں مل رہی۔

زچگی بھی خطرے میں

مسلح تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کی صحت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے ممالک میں حاملہ خواتین کو زچگی کے دوران موت کا خطرہ پُرامن ممالک کی خواتین کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔

غزہ میں ہسپتالوں اور زچگی مراکز کی تباہی اور ضروری طبی سامان کی کمی نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ رپورٹ میں زندہ بچوں کی پیدائش میں 41 فیصد کمی اور اسقاط حمل کے واقعات میں 300 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

طبی مراکز کی تباہی سے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کو درکار علاج تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں معمول کی طبی سہولتیں بھی زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتی ہیں۔

غربت کا بڑھتا بوجھ

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 17 کروڑ خواتین اور لڑکیاں ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں مسلح تنازعات کے ساتھ انتہائی غربت بھی موجود ہے۔ یہ خواتین اور لڑکیاں روزانہ تین ڈالر سے بھی کم رقم پر گزارا کرتی ہیں۔

تنازعات سے متاثرہ ممالک میں خواتین، مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں بلا معاوضہ نگہداشت کے کام پر پانچ گنا زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔ اس میں بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی دیکھ بھال سمیت روزمرہ گھریلو ذمہ داریاں شامل ہیں۔

جنگ کے باعث آمدنی، صحت کی سہولتوں اور بنیادی خدمات تک رسائی متاثر ہونے سے خواتین پر معاشی اور سماجی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔

شہریوں کو بڑھتے خطرات

رپورٹ میں آبادی والے علاقوں میں ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اسکولوں، بازاروں اور ہسپتالوں پر حملوں کو شہریوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستانیوں کے لیے اقوام متحدہ میں ملازمتوں کے مواقع، متعدد شعبوں میں بھرتیاں

اقوام متحدہ کے پیش کردہ اعداد و شمار جنگوں کے انسانی اثرات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کو ہلاکتوں کے علاوہ جنسی تشدد، طبی سہولتوں کی کمی، غربت اور نگہداشت کی بڑھتی ذمہ داریوں کا بھی سامنا ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والی صورتحال امن کوششوں میں خواتین کی مؤثر شمولیت اور تنازعات کے دوران شہریوں کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔

editor

Related Articles