اسٹار لنک استعمال کرنے والے افراد کی ڈیجیٹل نگرانی کے خدشات نے عالمی سائبر سکیورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
سائبر سکیورٹی محققین کے مطابق اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی ڈسکور ٹیک مبینہ طور پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے صارفین کو نشانہ بنانے والے آن لائن اشتہارات کی خریداری میں غیرمعمولی طور پر سرگرم رہی۔ تحقیقات میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اشتہارات کی بولی کے نظام سے حاصل ہونے والی معلومات صارفین کے مقامات کا پتا لگانے یا ان کی نگرانی کے لیے استعمال ہوسکتی تھیں۔
100 سے زائد ممالک میں سرگرمی
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹوکیو میں قائم سائبر سکیورٹی کمپنی ٹرینڈ مائیکرو کے تحقیقی شعبے ٹرینڈ اے آئی کے ماہرین نے اشتہاری ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے وابستہ افراد کے مطابق ڈسکور ٹیک اسٹار لنک صارفین کو دکھائے جانے والے اشتہارات کی بولی میں نمایاں مقام رکھتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے تیار، اسٹار لنک کے پاکستان میں آپریشنز کے حوالے سے بڑی پیشرفت
رپورٹ کے مطابق کمپنی 100 سے زائد ممالک میں اسٹار لنک ٹریفک سے متعلق اشتہارات کی سب سے بڑی بولی دہندگان میں شامل تھی۔ ان ممالک میں بعض ایسے علاقے بھی شامل تھے جہاں اسٹار لنک سروس پر پابندی یا سخت پابندیاں عائد ہیں۔
محققین نے اس سرگرمی کو معمول کی تجارتی اشتہاری سرگرمی سے مختلف قرار دیتے ہوئے صارفین کی شناخت اور مقامات کا پتا لگانے کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔ تاہم ان نتائج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر متاثرہ صارف کی شناخت معلوم کرلی گئی یا اس کی نگرانی کامیابی سے کی گئی۔
اشتہارات سے معلومات کیسے مل سکتی ہیں؟
ڈیجیٹل اشتہارات کی صنعت میں اشتہاری جگہ حاصل کرنے کے لیے خودکار بولی کا نظام استعمال ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران صارف کے آلے، انٹرنیٹ سرگرمی یا اشتہار کی ترسیل سے متعلق بعض معلومات بولی دہندگان تک پہنچ سکتی ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر ایسی معلومات کو مسلسل جمع کرکے دیگر ڈیٹا کے ساتھ ملایا جائے تو صارف کی شناخت، مقام اور آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں اندازہ لگانا ممکن ہوسکتا ہے۔
اس طریقۂ کار کے ذریعے حساس مقامات پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد بھی خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں سیٹلائٹ انٹرنیٹ روایتی ٹیلی مواصلاتی نظام سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے، صارفین کی رازداری کا معاملہ مزید اہم ہوجاتا ہے۔
گوگل اور دیگر کمپنیوں کا اقدام
تحقیقات کے بعد گوگل، کامکاسٹ اور بعض دیگر کمپنیوں نے ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاری پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا اعلان کیا۔ رائٹرز کے مطابق ایک بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اور ایک بین الاقوامی ادارے نے بھی یہ جانچ شروع کی کہ آیا ان کے ملازمین کو ان اشتہارات کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :’اسٹارلنک‘ کے بعد ’ایمیزون ‘ کا پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز سے متعلق بڑا اعلان
اس معاملے نے اشتہاری نیٹ ورکس کی نگرانی اور صارفین کی معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنادیا ہے۔ ماہرین کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اشتہارات کے ذریعے جمع ہونے والی معلومات کو غیرمجاز نگرانی یا سائبر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے کیسے روکا جائے۔
کمپنی پر سنگین الزامات


