صحت کارڈ پی ٹی آئی کیلئے مالی بوجھ؟ سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہیلتھ سکیم تجویز کی تھی

صحت کارڈ پی ٹی آئی کیلئے مالی بوجھ؟ سرکاری ملازمین کیلئے نئی ہیلتھ سکیم تجویز کی تھی

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے صحت کارڈ پلس پروگرام کی مالی پائیداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں سابقہ دور میں عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے کے دعوئوں کے ساتھ شروع کئے گئے اس پروگرام کے اخراجات میں اضافے کے بعد اب اس کی ازسرنو تنظیم، مالی بچت اور سرکاری ملازمین کیلئے الگ ہیلتھ کوریج پیکیجز متعارف کرانے کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں۔

 اس سلسلے میں معزول وزیراعلی خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس کے منٹس نے صحت کارڈ پلس کے بڑھتے ہوئے مالی دبائو اور حکومتی اصلاحاتی سوچ کو نمایاں کر دیا ہے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے مطابق 10ستمبر کو زوم کے ذریعے منعقدہ اجلاس میں صحت کارڈ پلس پروگرام کی کارکردگی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور طویل مدتی مالی استحکام کا جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس کے منٹس 25ستمبرکو جاری کئے گئے اجلاس میں بتایا گیا کہ پروگرام کے آغاز کے بعد اس کی توسیع، بجٹ میں اضافے اور نجی ہسپتالوں کے سروس ریٹس بڑھنے سے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

 اضافے  کے باعث پروگرام کی طویل مدتی پائیداری ایک اہم چیلنج بن گئی ہے شرکا نے پروگرام کا جامع جائزہ لینے اور اسے دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔صحت کارڈ پلس کو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے اہم عوامی فلاحی منصوبوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے اس پروگرام کے ذریعے مستحق اور اہل شہریوں کو ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کو حکومتی کارکردگی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تاہم اب سرکاری دستاویزات میں بڑھتے اخراجات اور مالی پائیداری سے متعلق خدشات سامنے آنا پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

 ایک طرف حکومت پروگرام کو مزید مئوثر بنانے اور عوام کیلئے علاج کی سہولت برقرار رکھنے کی بات کر رہی تھی جبکہ دوسری طرف اخراجات میں کمی، مالی بچت اور انتظامی اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے سوال یہ ہے کہ اگر پروگرام کے مالی معاملات پر دبائو بڑھ رہا تھا تو کیا اس کی توسیع اور اخراجات میں اضافے کے دوران مستقبل کی مالی ضروریات کا مناسب اندازہ لگایا گیا تھایہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کیلئے برونز، سلور اور گولڈ پیکیجز کے تحت منظم ہیلتھ کوریج فراہم کرنے کی تجویز زیر غور آئی تھی مجوزہ نظام میں بنیادی پیکیج کو کنٹری بیوشن یعنی مالی شراکت سے منسلک کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔

اجلاس میں 24گھنٹے کام کرنے والے بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت اور ٹائپ ڈی ہسپتالوں کو بھی صحت کارڈ پلس کے دائرے میں شامل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا تھاس کے ساتھ مہنگے علاج کی کوریج بڑھانے اور ہسپتالوں کے سروس ریٹس پر مرحلہ وار نظرثانی کی تجاویز بھی سامنے آئیں تھیں یہ تجاویز ایک پیچیدہ صورت حال کی عکاسی کرتی ہیں کیونکہ حکومت ایک طرف علاج کی سہولت کو مزید مراکز تک پھیلانا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف اخراجات پر قابو پانے اور پروگرام کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی ضرورت بھی تسلیم کر رہی ہے ان دونوں اہداف کے درمیان توازن قائم کرنا ہی اصل امتحان ہوگا۔

پی ٹی آئی حکومت کے سابقہ ادوار میں صحت کارڈ کو عوامی ریلیف کے نمایاں منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا اب اسی پروگرام کے مالی استحکام کیلئے نئی تجاویز سامنے آنے سے یہ بحث اہم ہو گئی ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ان کی طویل مدتی مالی ذمہ داریوں کو کس حد تک ترجیح دی گئی

contributor

Related Articles