ایران کے معروف فلم ساز جعفر پناہی کو حکومت پر تنقید اور ریاستی نظام کے خلاف سرگرمیوں کے الزامات پر5 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے جعفر پناہی کو قید کی سزا دینے کے ساتھ ان کے بعض اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر دو سال کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے اور بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
جعفر پناہی طویل عرصے سے ایرانی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کی فلموں میں ایرانی معاشرے، حکومتی اقدامات اور شہری آزادیوں جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ماضی میں بھی حکومتی پابندیوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرچکے ہیں۔
سنہ 2010 میں بھی ایرانی عدالت نے جعفر پناہی کو سزا سنائی تھی اور ان پر 20 سال تک فلمیں بنانے اور ہدایت کاری کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے بیرون ملک سفر اور میڈیا سے رابطے پر بھی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔
جعفر پناہی کا شمار ایران کے نمایاں فلم سازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی فلموں کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے اپنے کام کے ذریعے سماجی مسائل، شہری آزادیوں اور سیاسی حالات کو اجاگر کیا ہے۔
ان کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر ایران میں اظہار رائے کی آزادی اور فنکاروں پر عائد پابندیوں سے متعلق بحث کو اہمیت دے دی ہے۔