پاکستان ہاکی ٹیم کےسابق  لیجنڈری کھلاڑی شہباز سینئر نے بڑا اعلان کر دیا

پاکستان ہاکی ٹیم کےسابق  لیجنڈری کھلاڑی شہباز سینئر نے بڑا اعلان کر دیا

پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی شہباز احمد سینئر نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ آئندہ عام انتخابات میں اپنے آبائی شہر فیصل آباد سے حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شہباز احمد سینئر کی ممکنہ سیاسی انٹری کھیلوں کی دنیا سے سیاست میں آنے والی شخصیات کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کپتان جلد اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے باضابطہ اعلان کریں گے۔

تاہم ان کی سیاسی جماعت، انتخابی حلقے اور انتخابی مہم سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ فی الحال انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ ذرائع سے منسوب ہے۔

ہاکی کا درخشاں نام

شہباز احمد سینئر کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمی ہاکی کے نمایاں فارورڈز میں ہوتا ہے۔ میدان میں ان کی تیز رفتاری، شاندار ڈربلنگ اور مخالف کھلاڑیوں کو چکمہ دینے کی صلاحیت نے انہیں منفرد شناخت دی۔

 یہ بھی پڑھیں :ایمن سلیم کی سیاست میں انٹری، پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

ان کی غیر معمولی مہارت کے باعث انہیں ’میراڈونا آف ہاکی‘ اور ’مین ود الیکٹرک ہیل‘ جیسے القابات سے نوازا گیا۔ ان کی کھیلنے کی صلاحیت نے پاکستان ہاکی کے سنہری دور میں اہم کردار ادا کیا۔

شہباز سینئر نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے دوران 92 گول کیے۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے 1994 میں ہاکی کا ورلڈکپ جیتا تھا، جو اب تک قومی ٹیم کا آخری عالمی کپ ہے۔

مسلسل دو عالمی اعزاز

شہباز احمد سینئر نے 1990 اور 1994 کے ہاکی ورلڈکپ میں مسلسل دو مرتبہ مین آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ اس اعزاز کے حوالے سے ہاکی کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

پاکستان ہاکی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلال امتیاز سے بھی نوازا۔ یہ اعزاز ان کے کھیل کے میدان میں نمایاں مقام کی عکاسی کرتا ہے۔

کھیل سے سیاست تک

شہباز سینئر کی جانب سے سیاست میں آنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کھیلوں سے وابستہ شخصیات مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں ؛کے پی میں انتشاری سیاست ختم ، خوشیاں لوٹ آئیں ،پشاور میں شاندار فیسٹیول نے شہریوں کے دل جیت لیے

فیصل آباد سے انتخاب لڑنے کا ارادہ ان کے لیے ایک نئے عوامی سفر کا آغاز ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کی سیاسی ترجیحات، ممکنہ جماعت اور انتخابی حکمت عملی کے بارے میں مزید تفصیلات ان کے باضابطہ اعلان کے بعد واضح ہوں گی۔

ان کی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ یہ بھی اہم ہوگا کہ وہ اپنے کھیلوں کے تجربے کو عوامی مسائل اور قومی معاملات میں کس طرح بروئے کار لاتے ہیں۔

editor

Related Articles