اردوان کا ٹرمپ کو فون ، پاکستان کے ساتھ مل کر جاری امن اقدامات سے آگاہ کردیا

اردوان کا ٹرمپ کو فون ، پاکستان کے ساتھ مل کر جاری امن اقدامات سے آگاہ کردیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے مختلف عالمی تنازعات کے حل کے لیے ترکیہ کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا ہے۔  

ترک صدارتی دفتر کے مطابق اردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذریعے آبنائے ہرمز اور یمن سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

ترک صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی عمل کی بحالی کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا  کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہرمز اور یمن پر سفارت کاری

اردوان نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کے تحت آبنائے ہرمز اور یمن میں درپیش مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں ؛ایران سے مذاکرات کا راستہ بند نہ کریں، اردوان کا ٹرمپ کو مشورہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں کشیدگی عالمی تیل کی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

ایران سے متعلق جنگ کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی صورت حال کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں خطے کے ممالک اور عالمی معیشت دونوں کے لیے اہم ہوسکتی ہیں۔

ترک صدارتی دفتر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اردوان نے ان مسائل کے حل کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا ذکر کیا۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص معاہدے، مذاکراتی تاریخ یا مجوزہ حل کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

روس یوکرین جنگ کا خاتمہ

ترک صدر نے ٹرمپ سے گفتگو میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی بین الاقوامی سفارت کاری کا اہم معاملہ ہے۔ ترکیہ کی جانب سے اس عمل کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ تنازع کے حل میں سفارتی رابطوں کو اہمیت دے رہا ہے۔

editor

Related Articles