جو جماعت کبھی بلند و بانگ دعوے کیا کرتی تھی کہ “ہم کسی کے آگے نہیں جھکیں گے” آج اسی پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے اقتدار کے خوف اور ذاتی غرض کے تحت حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور “مذاکرات کی بھیک” مانگنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں جو کچھ دیکھنے میں آیا اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت میں نہ تو کوئی سیاسی نظریہ باقی بچا ہے اور نہ ہی اصول نام کی کوئی چیز رہ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران “کشکول اٹھائے حکومت کے در پر حاضری” دینے اور پسِ پردہ مک مکا کرنے پر رہنماؤں کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
بیرسٹر گوہر اور ان کے ہم خیال رہنما محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے ذریعے کسی نہ کسی طرح حکومت سے ڈیل کرنے اور مذاکرات کی بھیک مانگنے پر بضد نظر آئے جبکہ دوسری طرف پارٹی کے کئی ارکان نے کھل کر اپنی ہی قیادت کے ان منافقانہ ہتھکنڈوں کے پرخچے اڑا دیے۔
ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ نام نہاد اپوزیشن لیڈرز اور خود ساختہ رہنما صرف اپنے ذاتی مقدمات ختم کرانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت سے “کچھ لو اور کچھ دو” کی بنیاد پر سودے بازی کرنا چاہتے ہیں جس سے پی ٹی آئی کے اصل عوامی مطالبات اور نظریات پسِ پشت چلے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران اس بات پر زبردست ہنگامہ ہوا کہ مذاکرات کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے، اور اس رسہ کشی نے پی ٹی آئی کے اندر چھپے ان خود ساختہ لیڈروں کا پول عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر جاری یہ خانہ جنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب یہ جماعت کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں گھسنے اور ذاتی ریلیف کے حصول کے لیے تڑپ رہی ہے، جہاں پارٹی کے اپنے ہی ارکان ایک دوسرے کے گریبان نوچ رہے ہیں۔