ایک اور جنگ کی آہٹ ؟ شمالی کوریا کے سربراہ نے اپنی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیدیا

ایک اور جنگ کی آہٹ ؟ شمالی کوریا کے سربراہ نے اپنی فوج کو تیار رہنے کا حکم دیدیا

دنیا پہلے ہی متعدد جنگوں کی لپیٹ میں ہے اور اب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے فوجی کمانڈروں کو جنگ کے لیے مکمل تیاری اور سخت تربیت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کم جونگ اُن نے یہ بات کوریائی عوامی فوج کے کمپنی کمانڈروں کے تیسرے اجلاس کے شرکا سے خطاب کے دوران کہی جس میں انہوں نے تمام فوجی کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ اپنی یونٹس کو جنگ کے لیے پوری طرح تیار کریں اور مسلسل سخت تربیت کے ذریعے ان کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں۔

انہوں نے حکمران ورکرز پارٹی سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے تمام یونٹوں کو غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کا حامل بنانے کا حکم دیا۔

کوریائی سرحد پر کشیدگی اور اقوام متحدہ میں موقف

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ شمالی اور جنوبی کوریا کو الگ کرنے والے غیر فوجی علاقے (DMZ) میں دھماکے کے نتیجے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہو گئے تھے ، جنوبی کوریا نے واقعے کی ذمہ داری شمالی کوریا پر عائد کی تھی، تاہم علاقے میں کشیدگی کم کرنے کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطے بحال کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

شمالی کوریا نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور جنوبی کوریا کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا بھی فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں : تیسری عالمی جنگ کے خطرات یا برطانیہ کی بڑی عسکری چال؟ پہلی بار 3 ایٹمی آبدوزیں سمندر میں اتار دیں

دوسری طرف دونوں ممالک نے 21 ستمبر کو پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق اپنا اپنا موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرا دیا ہے۔

عالمی تنازعات اور بگڑتی صورتحال

واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب عالمی سطح پر پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے،  مشرق وسطیٰ میں ایران کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں، یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ابھی تک جاری ہے، جبکہ اسرائیل کی حماس اور حزب اللہ کے ساتھ لڑائی جاری ہے جس نے لبنان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف دنیا پہلے ہی کئی سنگین جنگوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے، اور دوسری جانب شمالی کوریا کے اس جارحانہ رویے نے پہلے سے متزلزل عالمی امن کو مزید ناپائیدار کر دیا ہے ، اگر یہ کشیدگی کسی براہ راست تصادم میں بدلتی ہے، تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ پورے عالمی نظام کو ایک نئی اور ناقابلِ تلافی تباہی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

editor

Related Articles