سرکاری زمین پر بنے مفتی محمود مرکز پر آپریشن کا خوف ، فضل الرحمان نے معصوم طالبعلموں کو تجاوزات کا چوکیدار بنا دیا

سرکاری زمین پر بنے مفتی محمود مرکز پر آپریشن کا خوف ، فضل الرحمان نے معصوم طالبعلموں کو تجاوزات کا چوکیدار بنا دیا

خیبر پختونخوا میں مفتی محمود مرکز کی سرکاری زمین سے تجاوزات واگزار کرانے کے معاملے نے مذہبی سیاست کا وہ بھیانک اور مکروہ رخ بے نقاب کر دیا ہے جسے ایک عرصے سے دینی لبادے میں چھپایا جا رہا تھا۔

متعلقہ اداروں کی تفصیلی سروے رپورٹس کے مطابق مرکزی دفتر کے اہم حصے سرکاری اراضی پر ناجائز طور پر تعمیر کیے گئے ہیں، جس پر انتظامیہ نے زمین واگزار کرانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور کسی بھی وقت گرینڈ آپریشن متوقع ہے۔

تاہم اپنے ذاتی محلات، ناجائز قبضوں اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے جے یو آئی کی قیادت نے حد پار کر دی۔ والدین جن معصوم بچوں کو دینی مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں، فضل الرحمان نے ان طلباء کی باقاعدہ ذہن سازی کر کے انہیں مفتی محمود مرکز کے اطراف جمع کر دیا ہے اور اپنے ذاتی و سیاسی تحفظ کے لیے معصوم بچوں کو فرنٹ لائن پر بطور ‘انسانی ڈھال استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

فضل الرحمن کی قومی اسمبلی میں زہر افشانی

اس تمام تر معاملے نے اس وقت انتہائی خطرناک اور زہریلی سیاسی نوعیت اختیار کر لی جب گزشتہ روز فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے فلور پر بیٹھ کر کھلے عام زہر افشانی کی اور وفاقی وزراء سمیت صوبائی حکومت کو کھلم کھلا گینگسٹر انداز میں دھمکیاں دے ڈالیں۔

مولانا فضل الرحمان نے ایوان کے اندر کھڑے ہو کر للکارتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی طاقت مفتی محمود مرکز کو گرانے کی ہمت نہیں کر سکتی، اور انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت پوری حکومت کو نتائج بھگتنے کی کھلی دھمکیاں دیں۔

یہ بھی پڑھیں :فضل الرحمن کا حال بھی پی ٹی آئی جیسا ہوگا، ریاست مخالف بیان بازی پر کرک کے شہری پھٹ پڑے

اپنی اس شعلہ بیان اور اشتعال انگیز تقریر کے دوران سربراہ جے یو آئی نے خود ایوان کے سامنے اعترافِ جرم کر لیا کہ انہوں نے مفتی محمود مرکز کے تحفظ کے لیے مدرسے کے طلباء اور معصوم بچوں کو آگے کھڑا کیا ہوا ہے۔

ایوان کے اندر سے ریاست مخالف بیانیہ ڈائریکٹ نشر کرنے، وزراء کو دھمکیاں دینے اور بچوں کے مستقبل کو اپنے محلات بچانے کے لیے داؤ پر لگانے کے اس اعتراف سے پوری قوم میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مفتی محمود مرکز سرکاری زمین پر قبضہ اور بچے بنے  ڈھال 

ایک طرف اپنے خاندان کے لیے اقتدار، مراعات اور اربوں کے محلات ہیں اور دوسری طرف غریب کے معصوم بچوں کے لیے لاٹھیاں، آنسو گیس اور سیاسی ایندھن بننے کا مقدر، پشاور میں سرکاری اراضی پر قائم مفتی محمود مرکز کی واگزاری کا معاملہ اب محض تجاوزات کا کیس نہیں رہا بلکہ یہ دینی مدارس کی آڑ میں کی جانے والی تاریخی کرپشن، مذہب کے نام پر بچوں کی ذہن سازی اور ریاست کے خلاف غنڈہ گردی کا بڑا سکینڈل بن چکا ہے۔

عوام کو اخلاقیات اور دین کا درس دینے والی جماعت کے اپنے مرکزی دفتر مفتی محمود مرکز کی سرکاری زمین پر قبضہ، ایوان سے دی جانے والی دھمکیاں اور معصوم بچوں کو استعمال کرنے کے اس مکروہ ڈرامے نے گہرے اور سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

عوام اور حقوقِ بچوں کے حلقے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا دینی مدارس کے معصوم طالب علم فضل الرحمان کے ناجائز قبضوں کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی گارڈ ہیں ؟ بلا تفریق قانون کی عملداری کا تقاضا ہے کہ سرکاری اراضی سے تجاوزات کا خاتمہ ہر سیاسی جماعت اور فرد پر یکساں لاگو ہو، لیکن مفتی محمود مرکز پر ممکنہ گرینڈ آپریشن کو روکنے کے لیے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنا، پارلیمنٹ سے زہر اگلنا اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو للکارنا واضح طور پر ریاست کی رٹ اور قانون کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا زعم ہے۔

editor

Related Articles