فریال تالپور صوبوں کی مخالفت کے بجائے سندھ کے مسائل دیکھیں، نئے صوبے بنائے جائیں ، کراچی کے شہریوں کا مطالبہ

فریال تالپور صوبوں کی مخالفت کے بجائے سندھ کے مسائل دیکھیں، نئے صوبے بنائے جائیں ، کراچی کے شہریوں کا مطالبہ

سندھ کے شہریوں نے صوبے میں بڑھتے ہوئے عوامی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے،شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ ایک وسیع صوبہ ہے جہاں آبادی کے بڑے حصے کو بنیادی سہولیات، صحت، تعلیم، روزگار، بہتر سڑکوں اور دیگر شہری سہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں صوبوں کی تشکیل کی مخالفت کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔

 بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے

شہریوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں فریال تالپور اور تیمور تالپور کی جانب سے نئے صوبوں کے معاملے پر دیے گئے بیانات کو حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں،عوام کئی برس سے بنیادی سہولتوں کی کمی، بے روزگاری، بدانتظامی اور دیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے  نئے صوبے وقت کی ضرورت بن چکے ہیں ۔

 اندرون سندھ مسائل کا شکار

شہریوں کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ کے متعدد علاقے آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، کئی علاقوں میں سڑکوں کی حالت خراب ہے، صحت کے مراکز میں مطلوبہ سہولتیں دستیاب نہیں جبکہ عوام کو معمولی نوعیت کے علاج کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف سندھ کی ترقی اور دیگر خطوں سے موازنہ کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ دوسری طرف صوبے کے کئی علاقوں میں عوام بنیادی مسائل کے حل کے منتظر ہیں،مسائل کا حل صرف نئے صوبے بننے میں ہے ۔

صحت کا نظام بھی سوالیہ نشان

شہریوں نے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ متعدد ہسپتالوں میں طبی سہولتیں، ادویات، جدید آلات اور دیگر ضروری وسائل ناکافی ہیں،صحت جیسے بنیادی شعبے میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی سطح پر انتظامی ڈھانچے اور وسائل کی تقسیم کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

 سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار

شہریوں نے سندھ میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی خراب صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی علاقوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑے صوبے کے ہر علاقے تک مؤثر انتظامی رسائی ممکن نہیں تو نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

 نئے صوبے عوامی مطالبہ ہیں

شہریوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کی خواہش نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل سے جڑا معاملہ ہے[ملک میں ایسے انتظامی یونٹس ہونے چاہییں جہاں حکومت عوام کے قریب ہو اور شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز علاقوں کے دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں،انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا بنیادی مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

 نوجوانوں میں بے روزگاری پر تشویش

شہریوں نے سندھ میں نوجوانوں کی بے روزگاری کو بھی بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہیں، سرکاری اور نجی شعبے میں مواقع کی کمی کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے،شہریوں کا کہنا تھا کہ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے مسائل کا حل صرف سیاسی بیانات سے ممکن نہیں، بلکہ نئے صوبے بنائے جائیں ۔

 رشوت کے بازار کا الزام

شہریوں نے سندھ میں  سرکاری معاملات میں  رشوت اور سفارش کے رجحان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کے لیے اپنے جائز کام کرانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے،اگر انتظامی یونٹس چھوٹے اور عوام کے قریب ہوں تو نگرانی، احتساب اور سرکاری اداروں تک رسائی نسبتاً بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

 مسائل حل کیے جائیں

شہریوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے مطالبے کو سیاسی مخالفت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کے محرکات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی علاقے کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ انتظامی نظام ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے تو ان کے مطالبات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے معاملے پر محض مخالفت کے بجائے نئے صوبے بنانے کے اقدامات کرنے چاہیے کیونکہ نئے صوبے ہرصورت بننے چاہیے یہی مسائل کا واحد حل ہے۔

 جماعت اسلامی کی محدود کاوشوں کا ذکر

بعض شہریوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی میں کیے جانے والے بعض اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں جماعت اسلامی کی سطح پر کچھ کام نظر آتا ہے، تاہم ان کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے بڑے مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اور مستقل اقدامات کی ضرورت ہے۔

سندھ کی انتظامی تقسیم پر بحث ضروری

شہریوں کا کہنا تھا کہ سندھ کی انتظامی تقسیم کا معاملہ جذباتی یا سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ عوامی ضرورت، انتظامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر زیر بحث آنا چاہیے، اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے سے حکومت عوام کے قریب آتی ہے، ترقیاتی وسائل بہتر انداز میں استعمال ہوتے ہیں اور شہریوں کے مسائل جلد حل ہوتے ہیں تو ایسا  کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

 عوام کو عملی اقدامات کا انتظار

شہریوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اب صرف وعدوں اور سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات چاہتے ہیں،صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے مستقل حل کے لیے انتظامی اصلاحات سمیت تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا جانا چاہیے،شہریوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی مخالفت کے بجائے عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے اور نئے صوبے بنانے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔

editor

Related Articles