پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹی 20 عالمی کپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست پر قومی کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹیم سلیکشن، حکمت عملی اور سینیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے میچز میں دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت ہی اصل امتحان ہوتی ہے اور پاکستانی ٹیم اس آزمائش میں ناکام رہی۔
اتوار کو کھیلے گئے اہم مقابلے میں بھارت قومی کرکٹ ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ بھارتی بیٹرز نے پاور پلے میں جارحانہ انداز اپنایا جبکہ درمیانی اوورز میں بھی اسٹرائیک روٹیشن کے ذریعے اسکور بورڈ کو متحرک رکھا۔ آخری اوورز میں چند بڑے شاٹس نے مجموعی اسکور کو 175 تک پہنچا دیا جو دباؤ والے میچ میں ایک مضبوط ہدف ثابت ہوا۔
176 رنز کے تعاقب میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے رن ریٹ بڑھتا گیا اور بیٹنگ لائن دباؤ میں آ گئی۔ مڈل آرڈر بھی مزاحمت نہ کر سکا اور پوری ٹیم 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، یوں گرین شرٹس کو 61 رنز کی واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کپتانی فیصلوں پر سوال
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم نے کئی بنیادی غلطیاں کیں اور مجموعی طور پر مخالف ٹیم جیت کی مستحق تھی۔ انہوں نے کپتان سلمان علی آغا کے بعض فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ حکمت عملی سمجھ سے بالاتر تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عثمان طارق کو 10 اوورز تک استعمال نہ کرنا حیران کن تھا کیونکہ مڈل اوورز میں اسپن کا مؤثر استعمال بھارتی بیٹنگ کی رفتار کم کرسکتا تھا۔ آفریدی کے مطابق ایسے بڑے میچز میں ہر اوور کی اہمیت ہوتی ہے اور تاخیر سے کیے گئے فیصلے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
بولنگ روٹیشن پر بھی اعتراض
سابق کپتان نے فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی بولنگ کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے اوور میں زیادہ رنز دیے گئے تھے تو ڈیتھ اوور میں متبادل آپشن آزمانا چاہیے تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فہیم اشرف بھی دستیاب تھے جنہیں آخری اوور دیا جا سکتا تھا۔
سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دینے کا مطالبہ
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ اگر اختیار ان کے پاس ہو تو وہ شاداب خان اور بابر اعظم سمیت چند سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں۔ ان کے مطابق سینیئر کرکٹرز طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں اور بڑی ٹیموں کے خلاف ان سے میچ وننگ کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے، اس لیے کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کی صورت میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شکست کے بعد ٹیم مینجمنٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور آئندہ میچز میں کمبی نیشن، بیٹنگ آرڈر اور بولنگ حکمت عملی پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ شائقین بھی سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دے رہے ہیں اور ٹیم میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔