پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے ویسٹ انڈیز کے شہرہ آفاق اور تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز (عرف گیری سوبرز) کے 89 برس کی عمر میں انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے سوشل میڈیا کے ذریعے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی پیغام میں لیجنڈری کرکٹر سر گیری سوبرز کی کھیل کے لیے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بابراعظم کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی دنیا آج اپنے ایک عظیم ترین کھلاڑی سے محروم ہو گئی ہے۔
قومی کپتان نے سر گیری سوبرز کے کھیل کے انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’گیری سوبرز نے صرف روایتی کرکٹ نہیں کھیلی، بلکہ انہوں نے دنیا کو یہ دکھایا اور ثابت کیا کہ اس کھیل کے میدان میں کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔
ان کی بے پناہ مہارت اور کھیل کی سمجھ بوجھ سے کرکٹ کی کئی نسلوں نے سیکھا ہے اور آنے والی نسلیں بھی ہمیشہ ان کے کھیل سے سیکھتی رہیں گی۔‘
بابر اعظم نے اپنے پیغام کے آخر میں سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس مشکل گھڑی میں سر گیری سوبرز کے اہلِ خانہ اور ویسٹ انڈیز کے عوام کے ساتھ برابر کے دکھ میں شریک ہوں اور ان سے تعزیت کرتا ہوں۔
سر گیری سوبرز کون تھے؟
سر گارفیلڈ سوبرز، جنہیں کرکٹ کی دنیا میں گیری سوبرز کے نام سے جانا جاتا ہے، 28 جولائی 1936 کو بارباڈوس میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں کرکٹ کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بہترین اور مکمل آل راؤنڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کی جانب سے 93 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں 57.78 کی شاندار اوسط سے 8,032 رنز بنائے اور اپنی جادوئی بولنگ سے 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
گیری سوبرز نے 1958 میں پاکستان ہی کے خلاف کھیلتے ہوئے 365 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی تھی، جو طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور رہا۔ اس کے علاوہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں 6 چھکے لگانے کا پہلا عالمی ریکارڈ بھی انہی کے نام تھا۔
ایک عہد کا خاتمہ اور بابر اعظم کے پیغام کی اہمیت
سر گیری سوبرز کا انتقال محض ایک کھلاڑی کا دنیا سے جانا نہیں، بلکہ کرکٹ کے اس سنہری دور کا اختتام ہے جس نے جدید کرکٹ کی بنیاد رکھی۔
کھیل پر اثرات
گیری سوبرز اس دور میں آل راؤنڈر بنے جب کھیل میں اس قدر جارحیت اور سہولیات نہیں تھیں۔ انہوں نے بیٹنگ، فاسٹ بولنگ، اسپن بولنگ اور شاندار فیلڈنگ سے کرکٹ کو ایک نئی جہت دی۔
بابر اعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ انہوں نے ’ممکنات کی حدوں کو عبور کیا‘، کیونکہ وہ تنِ تنہا میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
عالمی یکجہتی
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی جانب سے فوری طور پر تعزیتی پیغام جاری کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ گیری سوبرز کا احترام اور ان کا سحر جغرافیائی حدود اور نسلوں سے بالاتر ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب جدید کرکٹرز ریکارڈز کے پیچھے بھاگتے ہیں، بابر اعظم جیسے عصرِ حاضر کے بڑے بلے باز کا ماضی کے اس عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کرنا کرکٹ کی اعلیٰ روایات کی پاسداری کو ثابت کرتا ہے۔