پاکستان کے لیجنڈری لوک گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی اور آخرت کی تیاری سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔
عیسی خیلوی نے کہا کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ موت کو زندگی کی ایک اٹل حقیقت سمجھتے ہیں۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ انہوں نے اپنی آخرت کی تیاری کے طور پر اپنے خاندانی قبرستان میں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے جو مکمل تیار ہے۔
گلوکار نے بتایا کہ ان کے خاندان کا اپنا قبرستان ہے جہاں انہوں نے اپنے لیے ایک جگہ مختص کر رکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ موجود ایک اور جگہ کے بارے میں انہوں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ ان کی اہلیہ کے لیے ہے تاہم بعد میں وضاحت کی کہ حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ انہیں اپنی قبر پہلے سے تیار کروانے کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے سوچا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی پہلے سے طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیز و اقارب اور خصوصاً اپنی والدہ کو کھونے کے بعد موت کا احساس ان کے دل میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
گلوکار کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے اسے آخرت کی فکر اور موت کو یاد رکھنے کی اچھی مثال قرار دیا جبکہ کچھ نے رائے دی کہ اصل تیاری نیک اعمال کی ہونی چاہیے، صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں۔ چند صارفین نے قبر پہلے سے تعمیر کروانے پر مذہبی اور سماجی پہلوؤں سے بھی بحث ک جبکہ دیگر نے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایمان اور عاجزی کو سراہا۔