ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جس کے باعث شہری ٹرانسپورٹ، خصوصاً میٹرو بس سروس اور بعض تفریحی مقامات پر عارضی پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔
میٹرو بس انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کے اندر چلنے والی تمام میٹرو بس سروس آج مکمل طور پر معطل رہے گی۔ تاہم راولپنڈی کے کچھ حصوں میں سروس جزوی طور پر بحال رہے گی ۔ اسی طرح صدر اسٹیشن سے فیض آباد تک محدود روٹ پر سروس جاری رکھی جائے گی، جبکہ آئی جے پی روڈ سے پاک سیکرٹریٹ تک کا پورا سیکشن بند رہے گا۔
دارالحکومت کے تمام اہم پیدل راستے اور تفریحی ٹریلز بھی عوام کے لیے بند کر د دئیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے سے بچا جا سکے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ مزید سخت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کے اس دورے کا مقصد پاکستان کے ان سفارتی کرداروں کو سراہنا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
دورے کے دوران ایرانی صدر اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے جن میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات شامل ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات، معاشی تعاون، توانائی کے منصوبے، سرحدی تجارت اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔