آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈکپ 2027 گزشتہ دو ایڈیشنز کے مقابلے میں زیادہ ٹیموں کے ساتھ کھیلا جائے گا، جس میں پہلی مرتبہ 14 ٹیمیں عالمی ٹائٹل کے لیے میدان میں اتریں گی۔
میزبان جنوبی افریقا اور زمبابوے کو میزبانی کی بنیاد پر ورلڈکپ میں براہ راست جگہ مل چکی ہے، جبکہ 30 ستمبر کو آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ آٹھ پوزیشنز پر موجود ٹیمیں، میزبان ممالک کے علاوہ، براہ راست عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
افغانستان نے بیلفاسٹ میں آئرلینڈ کے خلاف سنسنی خیز کامیابی حاصل کرکے رینکنگ میں ٹاپ آٹھ میں اپنی پوزیشن تقریباً یقینی بنا لی ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے علاوہ بھارت، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلادیش اور افغانستان براہ راست کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب دو مرتبہ کی سابق عالمی چیمپئن ویسٹ انڈیز اس وقت رینکنگ میں 10ویں نمبر پر موجود ہے۔ ویسٹ انڈیز کے پاس کٹ آف تاریخ سے قبل بھارت کے خلاف دو ون ڈے میچز باقی ہیں، تاہم دونوں میچز میں کامیابی کے باوجود اس کے لیے ٹاپ آٹھ میں واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ ویسٹ انڈیز کو اب فروری 2027 میں شیڈول کوالیفائر کے ذریعے ورلڈکپ میں جگہ بنانا ہوگی۔
ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے ورلڈکپ تک رسائی کا راستہ بھی مختلف مراحل پر مشتمل ہوگا۔ چیلنج لیگ کی 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جہاں سے ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں کوالیفائر پلے آف کے لیے جگہ بنائیں گی۔
اسی طرح کرکٹ ورلڈکپ لیگ 2 میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے سرفہرست چار ٹیمیں براہ راست ورلڈکپ کوالیفائر میں پہنچیں گی۔
ورلڈکپ میں شرکت کرنے والی آخری چار ٹیموں کا فیصلہ 22 فروری سے 23 مارچ 2027 تک جاری رہنے والے 10 ٹیموں کے کوالیفائر ٹورنامنٹ کے ذریعے ہوگا۔ یوں 2027 کا عالمی کپ نہ صرف زیادہ ٹیموں کی شرکت کے باعث اہم ہوگا بلکہ اس میں براہ راست کوالیفائی کرنے اور کوالیفائر مرحلے سے آنے والی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی بھی توقع ہے۔