مہنگائی کا نیا وار ، آٹا، دودھ، گوشت اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں بے قابو

مہنگائی کا نیا وار ، آٹا، دودھ، گوشت اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں بے قابو

صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگائی نے شہریوں کو ہلا کررکھ دیا جہاں مارکیٹ میں  آٹا، گھی، تیل، دالیں، چاول، سبزیاں، پھل اور دودھ سمیت روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیا مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عام شہریوں کے لیے دو وقت کی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل بنا دیا ہے ، دوسری جانب سرکاری نرخ نامے اور مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں کے درمیان بھی واضح فرق دکھائی دے رہا ہے، جس سے صارفین کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

آٹے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ

لاہور میں آٹے کی قیمت میں اضافے نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے جہاں  15 کلو آٹے کا تھیلا 2100 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے،  اسی طرح درجہ اول کا کوکنگ آئل اور گھی 615 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چاول کی فی کلو قیمت 450 روپے تک جا پہنچی ہے۔

بازاروں میں روٹی کی قیمت بھی سرکاری نرخ سے زیادہ وصول کی جا رہی ہے جہاں  14 روپے کے سرکاری ریٹ والی روٹی 20 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔

دودھ اور دہی بھی سرکاری نرخ سے مہنگے

دودھ کی قیمت میں بھی نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے،  170 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں دودھ 210 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے،  اسی طرح دہی بھی سرکاری نرخ سے زائد 230 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ، پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی، اسٹیٹ بینک نے خبردار کردیا

اس صورتحال کا براہ راست اثر متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑ رہا ہے خصوصاً وہ گھرانے جن کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے، ان کے لیے ماہانہ بجٹ کو متوازن رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سبزی، گوشت اور ترکاری کی قیمتیں بھی بے قابو

سبزی اور ترکاری بھی سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق دستیاب نہیں ہیں اور دکانداروں کی جانب سے من مانی قیمتیں وصول کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

بازاروں میں گوشت کی قیمتوں میں بھی بڑا فرق سامنے آیا ہے جہاں  800 روپے فی کلو کے سرکاری نرخ والا بیف 1500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں مٹن کی قیمت 3 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

لاہور میں مہنگائی کے مسلسل دباؤ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی جہاں محدود آمدن میں گھر کا راشن، دودھ، سبزیاں اور گوشت خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے نتیجتاً کئی خاندان غیر ضروری اشیا کی خریداری کم کرنے یا بنیادی ضروریات میں بھی بچت کرنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ سرکاری نرخ ناموں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔۔

editor

Related Articles