گھروں میں گھس کر قتل کرنا کون سی بلوچیت ہے، مینا مجید بلوچ

گھروں میں گھس کر قتل کرنا کون سی بلوچیت ہے، مینا مجید بلوچ

بلوچستان حکومت کی رہنما مینا مجید بلوچ نے نوشکی میں کالعدم بی ایل اے کی جانب سے گھر میں گھس کر ماں بیٹی کے بزدلانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا بلوچیت اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی کھلی پامالی ہے اور حکومت ان قاتلوں کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچائے گی۔

ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی، صوبائی وزیرِ تعلیم اور مشیرِ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران خاتون رہنماؤں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر ملکی یا مقامی آلہ کار کو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت بالکل نہیں دی جائے گی۔

مینا مجید بلوچ نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا اصلی ہدف صرف سیکیورٹی فورسز ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے بے گناہ عوام بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن ردالفتنہ 3،زیارت میں سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں، دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ

دہشتگرد اب بزدلی کی انتہا پر اتر آئے ہیں اور وہ اب عام بچوں اور بے گناہ خواتین کو بھی اپنے مذموم مقاصد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

نوشکی کا افسوسناک واقعہ اور چادر و چار دیواری کی پامالی

نوشکی میں دل دہلا دینے والے واقعے کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے مینا مجید بلوچ کا کہنا تھا کہ کالعدم بی ایل اے کے دہشتگردوں نے ایک گھر میں گھس کر 2 خواتین کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ قتل ہونے والی دونوں ماں بیٹی تھیں، آخر ان کا کیا قصور تھا؟

انہوں نے غصے اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں گھس کر بے گناہ خواتین کو قتل کرنا کون سی بلوچیت یا کون سی روایات ہیں؟ دہشت گرد چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غیور بلوچ عوام کا ان دہشتگردوں یا کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا اصلی و مکروہ چہرہ اب قوم کے سامنے بالکل بے نقاب ہو چکا ہے۔

حکومتی عزم اور سیکیورٹی فورسز کا کردار

پریس کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان میں امن اور ترقی کا سفر کسی بھی صورت نہیں رکے گا۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور اور موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

خاتون رہنماؤں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد چھپ کر وار کرتے ہیں کیونکہ ان میں سامنے آنے کی ہمت نہیں، لیکن اب ان کا بیانیہ مزید نہیں بکے گا۔

یہ عناصر بلوچستان میں امن اور ترقی کے دشمن ہیں اور کسی قیمت پر یہاں کے عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ حکومت ان بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزا دے گی۔

مزید پڑھیں:بلوچستان: آواران میں مقامی افراد نے ٹھیکیدار کو اغوا کی کوشش ناکام بنادی،کالعدم بی ایل اے کمانڈر ہلاک

واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کالعدم تنظیموں اور دہشتگرد گروہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

بلوچ روایات میں تاریخی طور پر خواتین، بچوں اور گھر کی چار دیواری کو انتہائی احترام اور تحفظ کا مقام حاصل رہا ہے، جہاں قبائلی جنگوں کے دوران بھی خواتین پر ہاتھ اٹھانا سخت عیب اور گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم، حالیہ عرصے میں نوشکی جیسے واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ کالعدم بی ایل اے اور اس سے منسلک دیگر انتہا پسند گروہ روایتی بلوچ قدروں کو بالائے طاق رکھ کر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے عام شہریوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی کی قیادت، وزراء اور مقامی عمائدین نے یک زبان ہو کر ان اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

نوشکی میں ماں بیٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت کا یہ سخت ردِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے چادر و چار دیواری کی پامالی نے مقامی سطح پر ان کے خلاف شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ خود بلوچ قیادت ان گروہوں کی کارروائیوں کو ‘بلوچیت اور بلوچ روایات کے منافی’ قرار دے کر ان کے خلاف کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

دہشتگردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے بجائے اب نرم اہداف (سوفٹ ٹارگٹس) یعنی خواتین اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:بلوچ عوام بی ایل اے کی دہشت گردی سے تنگ آگئی، بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کا مطالبہ کردیا

جب کوئی تحریک یا گروہ اخلاقی اور قبائلی حدود کو پار کر کے گھروں میں گھس کر قتل و غارت گری پر اتر آئے تو وہ عوام کی ہمدردی مکمل طور پر کھو دیتا ہے۔

حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے لیے یہ ایک مناسب وقت ہے کہ وہ اس عوامی نفرت اور سیاسی یکجہتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پردہ نشیں بزدل عناصر کے خلاف موثر کارروائی کریں تاکہ صوبے میں امن و ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

Related Articles