پاکستان، سعودی عرب ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے میں مصر بھی شامل ہونا چاہتا ہے، طیب اردوان

پاکستان، سعودی عرب ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے میں مصر بھی شامل ہونا چاہتا ہے، طیب اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور اسے دوبارہ کھولنا عالمی ترجیح ہونی چاہیے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر کے محورِ مزاحمت کو تسلیم کر لیا ہے جس کے بعد امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور قطر کی ثالثی پر ترک صدر کا موقف

قطری نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک اہم انٹرویو میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے خلیجی خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے بحران پر تفصیل سے گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت کشیدگی کے دوران ترکیہ صدر پاکستان کیساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے، وزیر اعظم

انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے عالمی معیشت اور خطے کے تمام ممالک کا نقصان ہو رہا ہے، اس لیے اسے باقاعدہ طور پر دوبارہ بحال کرنا تمام فریقین کی ترجیح ہونی چاہیے۔

انٹرویو کے دوران ترک صدر نے خطے میں جاری لڑائی اور کشیدگی کو روکنے کے لیے قطر کے سفارتی کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ قطر نے ایک بہترین ثالث کے طور پر کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے انتہائی اہم اور فعال کردار ادا کیا ہے جو قابلِ تحسین ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور مصر کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ

صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے اس اسٹریٹجک شراکت داری کو خطے کے امن اور دفاعی توازن کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس دفاعی بلاک کی وسعت میں مزید اضافہ ہوگا اور مستقبل میں مصر سمیت دیگر اہم مسلم اور علاقائی ممالک کے بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا قوی امکان موجود ہے، جس سے خطے میں ایک نیا اور مضبوط دفاعی فریم ورک قائم ہوگا۔

اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت اور ایرانی سپیکر کا انکشاف

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک سنسنی خیز بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ پر دستخط کر کے عملاً اور واضح طور پر محورِ مزاحمت کو تسلیم کر لیا ہے۔

باقر قالیباف نے مذاکراتی عمل کے پسِ پردہ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کا مسلسل یہ شدید اصرار تھا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام، نیوکلیئر پروگرام، محورِ مزاحمت کی حمایت اور آبنائے ہرمز پر اپنے موقف کو بالکل بالائے طاق رکھ دے۔

تاہم ایرانی موقف کی صلابت کے سامنے ٹرمپ نے دستخط کر کے محاذِ مزاحمت کے وجود کو تسلیم کیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ان مذاکرات کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا نے اسی رات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو ختم کر دیا تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم ترین بحری اور تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل کا ایک بڑا حصہ منتقل ہوتا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکا، ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری شدید سیاسی و ملٹری کشیدگی کی وجہ سے اس گزرگاہ پر ناکہ بندی اور بحری جہازوں کی روک تھام کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:مکہ معاہدہ خطے میں امن،سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے،وزیراعظم شہباز شریف

اس صورتحال میں پاکستان کی سفارتی کاؤشوں سے اسلام آباد میں اہم مفاہمتی عمل کی بنیاد رکھی گئی جس کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پیشرفت ممکن ہوئی۔

اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سہ فریقی دفاعی تعاون کو فروغ دیا ہے جس میں اب دیگر ممالک کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان کا بیان اور باقر قالیباف کے انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیا کی جیو پولیٹکس میں ایک بڑا تاریخی موڑ آ چکا ہے۔

ترک صدر کی جانب سے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت کا اشارہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے بڑے مسلم ممالک اب انحصار کے بجائے اپنا ایک خود مختار سیکیورٹی چھتر قائم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی تعاون کا نیا باب

دوسری طرف اسلام آباد مفاہمت کے بعد امریکی رویے میں تبدیلی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونا اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ امریکا خطے میں ایک اور طویل اور مہنگی جنگ سے بچنا چاہتا ہے۔

اگرچہ ایران اسے اپنی فتح اور ‘محورِ مزاحمت’ کی تسلیم کی شکل میں دیکھ رہا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا عالمی تجارتی مارکیٹوں اور ایندھن کی سپلائی لائن کے لیے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند پیشرفت ثابت ہوگا، جس میں پاکستان، قطر اور ترکیہ کی سفارتکاری نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Related Articles