تہران اور مسقط کے مابین سفارتی پیشرفت کے نتیجے میں ایران اور عمان نے عالمی توانائی اور تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں جہازرانی کے محفوظ راستے کے نئے نقشے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوطرفہ مذاکرات بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے کامیابی سے جاری ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا باعث ایران نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔
دوطرفہ مذاکرات اور بحری راستے کا نیا نقشہ
ایران اور عمان کے مابین خلیجی خطے میں سمندری سیکیورٹی اور بحری جہازوں کی باقاعدہ و محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
دونوں ممالک نے طویل گفت و شنید کے بعد آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے مخصوص اور متعین راستوں کا نقشہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا تجارتی بیڑوں کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو روکا جا سکے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عمان کے ساتھ تہران کے مذاکرات صحیح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے عمل میں کوئی بڑی تکنیکی یا سیاسی رکاوٹ پیش نہیں آئی اور فریقین مسلسل مثبت نتائج کی جانب پیشرفت کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی و دفاعی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
امریکا اور اسرائیل پر کشیدگی کا الزام
آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ میں عدم استحکام اور بدامنی کا ذمہ دار ایران ہرگز نہیں ہے۔
تہران نے براہِ راست واشنگٹن اور تل ابیب کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ خطے کا امن تباہ کرنے اور بحری نقل و حرکت کو خطرناک بنانے کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔
ترجمان کے مطابق 28 فروری تک آبنائے ہرمز کے علاقے میں حالات بالکل معمول کے مطابق تھے اور جہازرانی میں کوئی مسئلہ یا رکاوٹ پیش نہیں آئی تھی۔ تاہم، اس تاریخ کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ہرمز اور اس کے ملحقہ حساس بحری علاقوں کو ایران کے خلاف سیکیورٹی اور ملٹری مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، جس سے حالات بگاڑ کی طرف گئے۔
قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کا عزم
ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے خودمختارانہ حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایران اپنی قومی سلامتی، جغرافیائی حدود اور معاشی و بحری مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور مناسب اقدامات اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی اور خطے کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور تیل کی سپلائی کی شاہراہ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
ایران اور عمان کے ساحل اس تنگ گزرگاہ کے دونوں اطراف واقع ہیں، جس کے باعث ان دونوں ممالک کا باہمی تعاون عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
2018 کے بعد سے تہران پر امریکی پابندیوں کی بحالی اور بعد ازاں خطے میں امریکی بحری بیڑوں اور اسرائیلی سرگرمیوں کے بعد ہرمز میں تیل کے ٹینکروں کی توقیف اور تصادم کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔
تاریخی طور پر سلطنتِ عمان نے ہمیشہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں 28 فروری کے بعد بڑھنے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے مسقط نے ایک بار پھر فعال سفارتکاری کا آغاز کیا تاکہ جہازرانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ایران تجارتی گزرگاہوں کی بندش کا خواہش مند نہیں
ایران اور عمان کے مابین جہازرانی کے نقشے پر اتفاق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران عالمی برادری کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں تجارتی گزرگاہوں کی بندش کا خواہش مند نہیں بلکہ ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
مسقط کے ساتھ یہ نیا تزویراتی (اسٹریٹجک) فریم ورک قائم کر کے ایران نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں؛ ایک طرف اپنے ساحلی سیکیورٹی کنٹرول کو مضبوط بنایا ہے اور دوسری طرف امریکا کو یہ پیغام دیا ہے کہ علاقائی ممالک آپس میں مل کر سیکیورٹی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم ترجمان کا 28 فروری کی تاریخ کا مخصوص ذکر اور امریکا و اسرائیل پر ملحقہ علاقوں کو استعمال کرنے کا الزام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خلیج میں انٹیلی جنس اور فوجی محاذ آرائی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
ان حالات میں اگرچہ عمان کی ثالثی عارضی طور پر تجارتی جہازوں کے لیے راہ ہموار کرے گی، لیکن جب تک امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر سیکیورٹی معاہدہ طے نہیں پاتا، آبنائے ہرمز میں مستقل استحکام کا قیام ایک دشوار گزار چیلنج بنا رہے گا۔