نئے صوبوں کا قیام ناگزیر، سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا کیس سب سے مضبوط ہے، خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کی اہم نیوز کانفرنس
Home - اہم خبریں - نئے صوبوں کا قیام ناگزیر، سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا کیس سب سے مضبوط ہے، خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کی اہم نیوز کانفرنس
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے فوری قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نیا صوبہ بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط اور آئینی ہے، جس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مفادات سے بالاتر ہو کر مذاکرات کرنے چاہییں۔
کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کے ہمراہ ایک اہم و تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موجودہ صوبے ماضی میں لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے، لیکن وقت کے ساتھ آبادی میں بے پناہ اضافے کے باوجود ملک میں نئے انتظامی یونٹس نہیں قائم کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا مطالبہ کسی ایک جماعت کا تنظیمی یا سیاسی ایجنڈا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کی بنیادی اور انتظامی ضرورت ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے سوال اٹھایا کہ اگر نیا صوبہ بنانا غلط یا غداری کا مترادف ہے تو پھر آئینِ پاکستان میں اس کی شق کیوں درج ہے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کے آئین میں نئے صوبوں کے قیام کی واضح گنجائش رکھی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہجرت کر کے آنے والوں کو سندھ میں محبت اور احترام ملا اور ان کی شہری علاقوں میں آبادکاری ایک تاریخی حقیقت ہے۔ ایم کیو ایم نے یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اٹھایا ہے جہاں اس پر غور شروع ہو چکا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا انکشاف
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے صوبائی معاشی و انتظامی صورتحال پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے پہلے ہی دن 884 ارب روپے فراہم کر دیے جاتے ہیں، جبکہ گزشتہ 18 سالوں میں سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود صوبہ بدترین حالات کا شکار ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطلب ملک کو تقسیم کرنا نہیں ہے اور سندھ کی ایک انچ زمین بھی کسی دوسرے صوبے میں شامل نہیں کی جائے گی، بلکہ اس سے سندھ کے ہاریوں کو بھی وڈیرانا مظالم سے آزادی ملے گی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر وزیراعظم، کابینہ اور تمام جماعتیں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے پر متفق تھیں، لیکن حکومت گرانے کے نمبرز رکھنے والی جماعت (پیپلز پارٹی) نے اس اہم ترمیم کو رکوا دیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا بیان
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے جو ملک کے کل ٹیکس اور محصولات کا 60 فیصد اور برآمدات کا 55 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی تنہا صوبہ سندھ کو 90 فیصد ریونیو دیتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ عظیم معاشی مرکز پچھلے 18 سالوں سے بدترین حکمرانی اور کرپشن کی زد میں ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر ملک سے اسٹیٹس کو، غربت، بے روزگاری اور کرپشن کا خاتمہ نہ کیا گیا تو عوام میں ریاست سے بیگانگی اور محرومی بڑھے گی جو کہ نچلے سطح پر بغاوت کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ چاروں صوبوں میں بدحکمرانی کا حل صرف اور صرف نئے بااختیار انتظامی یونٹس کی تشکیل میں مضمر ہے۔
پاکستان میں صوبائی حدود کی إعادة تشکیل اور نئے انتظامی یونٹس کی بحث دہائیوں پرانی ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت جغرافیائی اور انتظامی ضرورت کے تحت نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے، تاہم سیاسی حساسیت اور صوبائی خود مختاری کے خدشات کی وجہ سے بڑی سیاسی جماعتیں اس موضوع پر تحفظات کا شکار رہی ہیں۔
سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں طویل عرصے سے یہ احساس پایا جاتا ہے کہ صوبائی فنڈز اور اختیارات کا مرکز محض صوبائی دارالحکومت یا مخصوص طبقے تک محدود رہتا ہے۔
ایم کیو ایم ماضی سے سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق اور مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کو بااختیار بنانے کا مقدمہ لڑتی آئی ہے، اور حالیہ 26ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں اس مطالبے میں ایک بار پھر شدت دیکھنے کو ملی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کا یہ تازہ ترین اور جارحانہ موقف دراصل ملک کے موجودہ 18ویں ترمیم کے بعد کے معاشی و انتظامی فریم ورک پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
22 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم کے باوجود سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی بنیادی حالت نہ بدلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف مالی وسائل کی فراہمی کا نہیں بلکہ ان کی غیر منصفانہ تقسیم اور مرکزی ایڈمنسٹریشن کی ناکامی کا ہے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے ‘تقسیم کے خوف’ کو رد کر کے اسے محض ‘انتظامی بندوبست’ قرار دینا ایک دانشمندانہ سیاسی چال ہے تاکہ سندھی اور مہاجر آبادی کے درمیان کسی بھی ممکنہ لسانی تصادم کے تاثر کو زائل کیا جا سکے۔
تاہم، پیپلز پارٹی کی جانب سے بلدیاتی اختیارات کی منتقلی پر مزاحمت اور سندھ میں نئے صوبے کی شدید مخالفت کے پیشِ نظر، ایم کیو ایم کے لیے اس مطالبے کو قانون سازی کا روپ دینا ایک کٹھن چیلنج رہے گا۔
اگر وفاقی سطح پر آئینی ترامیم کے ذریعے لوکل گورنمنٹ کو بااختیار نہ بنایا گیا تو ان علاقوں میں معاشی و سیاسی محرومی مزید گہری ہو سکتی ہے۔