کیا چین زمین کو تباہی سے بچانے کی تیاری کر رہا ہے؟ نیا خلائی مشن سامنے آ گیا

کیا چین زمین کو تباہی سے بچانے کی تیاری کر رہا ہے؟ نیا خلائی مشن سامنے آ گیا

چین نے زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 2030 سے قبل ایک خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ایک سیارچے سے ٹکرایا جائے گا۔

چینی سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد صرف تصادم کا تجربہ کرنا نہیں بلکہ سیارچے کے زمین کے مقابلے میں مدار کو تبدیل کرنے اور ضرورت پڑنے پر اس کی ساخت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا جائزہ لینا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:زمین نہیں، اب ٹائٹن کی فضاؤں میں اڑے گا ناسا کا ہیلی کاپٹر

یہ منصوبہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن  کے سیاروی دفاع کے چیف سائنس دان لی منگ تاؤ کی سربراہی میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے تحقیقی مقالہ چینی سائنسی جریدے جرنل آف ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن میں جائزے کے مرحلے میں ہے۔

تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً 26 گنا زیادہ ہے۔ یہ مشن 2029 یا 2030 میں اس وقت انجام دیا جائے گا جب متعلقہ سیارچہ زمین سے تقریباً 70 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب کی مونیٹائزیشن پالیسی تبدیل، کم معیار کے مواد بنانے والوں کے لیے وارننگ

اس مشن میں ایک دوسرا خلائی جہاز بھی شامل ہوگا، جو تصادم سے پہلے، دورانِ تصادم اور اس کے بعد سیارچے کا مسلسل مشاہدہ کرے گا۔ یہ خلائی جہاز سیارچے کے مدار، شکل، سطح اور اندرونی ساخت میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کا تفصیلی ریکارڈ جمع کرے گا۔

چینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ  مشن سے ایک قدم آگے ہے۔ ان کے مطابق ڈارٹ مشن نے صرف ایک سیارچے کے گرد گردش کرنے والے دوسرے سیارچے کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی تھی، جبکہ چین کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین کی طرف بڑھے تو اس کا راستہ مؤثر انداز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

editor

Related Articles