امریکی خلائی ادارے ناسا نظامِ شمسی کے سب سے پراسرار چاند ٹائٹن پر پہلی بار جوہری توانائی سے چلنے والا ہیلی کاپٹر ’’ڈریگن فلائی‘‘ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جو کسی بھی چاند پر پرواز کرنے والا دنیا کا پہلا طیارہ ہوگا۔
ٹائٹن، سیارۂ زحل کا سب سے بڑا چاند، اپنی منفرد خصوصیات کے باعث سائنس دانوں کے لیے خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں دریا، جھیلیں، سمندر، بادل، بارش، ریت کے ٹیلے اور زمین جیسا گھنا ماحول موجود ہے، تاہم ان سب کی ساخت زمین سے بالکل مختلف ہے۔
ٹائٹن کا درجہ حرارت منفی 179 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب رہتا ہے، جہاں پانی برف کی طرح سخت چٹان بن جاتا ہے، جبکہ دریا اور جھیلیں پانی کے بجائے مائع میتھین اور ایتھین سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں بارش بھی ہائیڈروکاربنز کی ہوتی ہے اور ریت کے ٹیلے منجمد نامیاتی ذرات پر مشتمل ہیں۔
ناسا کے مطابق ٹائٹن کا ماحول زمین کے مقابلے میں تقریباً 4 گنا زیادہ گھنا جبکہ کششِ ثقل تقریباً سات گنا کم ہے، جس کی وجہ سے وہاں ہیلی کاپٹر اڑانا نسبتاً آسان ہے۔ اسی لیے ناسا نے روور کے بجائے ڈریگن فلائی ہیلی کاپٹر کا انتخاب کیا، جو ایک مقام سے دوسرے مقام تک درجنوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے مختلف علاقوں کا جائزہ لے گا۔
چونکہ ٹائٹن تک سورج کی روشنی زمین کے مقابلے میں صرف تقریباً 1 فیصد پہنچتی ہے، اس لیے وہاں شمسی توانائی مؤثر نہیں۔ اسی وجہ سے ڈریگن فلائی کو ریڈیو آئسوٹوپ نیوکلیئر بیٹری سے چلایا جائے گا، جو اسی طرز کی ٹیکنالوجی ہے جس نے وائجر خلائی مشنز کو کئی دہائیوں تک توانائی فراہم کی۔
اس مشن کا مقصد کسی جاندار مخلوق کی تلاش نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ زندگی کے آغاز کے لیے ضروری نامیاتی کیمیائی اجزا ٹائٹن پر کس حد تک موجود ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ٹائٹن کی برفانی سطح کے نیچے مائع پانی کا ایک وسیع سمندر موجود ہو سکتا ہے، جو نامیاتی مرکبات کے ساتھ مل کر زندگی کے ابتدائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ناسا کے موجودہ منصوبے کے مطابق ڈریگن فلائی مشن کو 2028 میں لانچ کیا جائے گا، جبکہ تقریباً سات سال کے سفر کے بعد اس کے 2034 میں ٹائٹن پہنچنے کی توقع ہے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ مشن اس اہم سوال کا جواب دینے میں مدد دے گا کہ آیا زندگی کے آغاز کے لیے درکار کیمیائی عمل صرف زمین تک محدود تھے یا کائنات میں دیگر مقامات پر بھی وقوع پذیر ہو سکتے ہیں۔