معاشی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار 450 ارب ڈالر کے قیمتی و نیم قیمتی پتھروں کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے اور برآمدات کو 500 ملین ڈالر تک پہنچانے کے لیے ’نیشنل جیم اسٹون پالیسی 30-2026 ‘ کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزارتِ صنعت و پیداوار کے مطابق پاکستان دنیا کے چند بڑے قیمتی پتھروں کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
تاہم قانونی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت سالانہ صرف 5 ملین سے 7 ملین ڈالر کی ہی سرکاری برآمدات ریکارڈ کی جا رہی ہیں، جو کہ عالمی جیم اسٹون تجارت کا محض 0.3 فیصد بنتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سال 2030 تک ان برآمدات کو بڑھا کر 500 ملین ڈالر تک پہنچانا ہے۔
نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی کا قیام
پاکستان گیمز اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی کو تحلیل کر کے اس کے تمام ملازمین اور اثاثوں کو نئی بننے والی ’نیشنل جیم اسٹون اتھارٹی‘ میں ضم کر دیا جائے گا۔ یہ اتھارٹی شعبے کو ریگولیٹ کرنے، سرٹیفیکیشن فراہم کرنے اور تاجروں کی رجسٹریشن کی ذمہ دار ہوگی۔
نیشنل وارنٹی آفس
برآمدی پتھروں کی تصدیق، قیمت کے تعین اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیلنگ کے لیے یہ خصوصی دفتر قائم ہوگا جو کسٹمز، بینکوں اور کوریئر کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
انڈر انوائسنگ کا خاتمہ
کم قیمت دکھا کر ٹیکس چوری روکنے کے لیے پاکستان کے مخصوص ’ہارمونائزڈ سسٹم (ایچ ایس) کوڈز‘ اور کم از کم برآمدی قیمت کے بینچ مارک مقرر کیے جائیں گے۔
ٹیکنالوجی اور جدید مائننگ
مائنرز کو جدید مشینری، دھماکہ خیز مواد تک کنٹرولڈ رسائی، کٹنگ اور پالش کرنے کی سہولیات اور ٹریننگ پروگرامز فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی خام پتھروں کی امپورٹ کو بھی آسان بنایا جائے گا تاکہ ملک کے اندر ان کی کٹنگ کر کے ویلیو ایڈیشن کی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال جنوری 2026 میں اس پالیسی کی اصولی منظوری دی تھی، جس کے بعد تمام صوبوں، ریگولیٹرز اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کر کے اب اس کا حتمی اعلان کیا گیا ہے۔ اس پر عملدرآمد کی نگرانی وزیرِ صنعت و پیداوار کی سربراہی میں قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں قدرت نے زمرد، یاقوت، نیلم اور ایکوامارین جیسے نایاب پتھروں کے وسیع ذخائر پیدا کیے ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے علاقے ان قیمتی پتھروں سے مالامال ہیں۔
ماضی میں کسی جامع حکومتی پالیسی نہ ہونے کے باعث اس انڈسٹری کا 95 فیصد سے زیادہ کاروبار غیر رسمی یا اسمگلنگ کے راستوں سے ہوتا رہا ہے۔
پاکستان سے سستے داموں کچا مال پڑوسی ممالک منتقل ہوتا تھا، جہاں جدید کٹنگ اور پالش کے بعد اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں بھاری قیمتوں پر بیچا جاتا تھا اور اس کا کریڈٹ یا مالی فائدہ پاکستان کو نہیں ملتا تھا۔ یہ پالیسی اسی پرانے ڈھانچے کو بدلنے کے لیے لائی گئی ہے۔
نیشنل جیم اسٹون پالیسی 2026 پاکستان کی معیشت کے لیے ایک ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس کے موثر نفاذ پر ہے۔
خام مال کی جگہ ویلیو ایڈیشن
اب تک پاکستان صرف کچا پتھر بیچتا تھا۔ کٹنگ اور پالش کی مقامی سہولیات کی اپ گریڈیشن سے پتھر کی قیمت مارکیٹ میں 10 گنا تک بڑھ جائے گی۔
غیر ملکی سرمایہ کاری اور برانڈنگ
پاکستانی جیم اسٹون‘ کے نام سے مشترکہ برانڈ بنانا اور عالمی نمائشوں میں حصہ لینا پاکستان کے منفی تاثر کو ختم کر کے خریداروں کا اعتماد بحال کرے گا۔
بلیک مارکیٹ کا خاتمہ
کسٹمز اور بینکنگ سسٹمز کو بزنس رجسٹری سے جوڑنے سے سرمائے کی غیر قانونی منتقلی رکے گی اور ڈالر سرکاری خزانے میں آئیں گے۔
پالیسی کا سب سے بڑا امتحان 95 فیصد غیر رسمی تاجروں کو ٹیکس نیٹ اور ریگولیشن کے دائرے میں لانا ہے۔ اگر نئے قوانین اور فیسیں بہت زیادہ سخت رکھی گئیں، تو تاجر قانونی راستے اپنانے کے بجائے دوبارہ اسمگلنگ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
حکومت کو ابتدائی چند سالوں میں مائنرز اور کٹرز کو مراعات دینا ہوں گی تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر اس سسٹم کا حصہ بنیں۔