ملک میں گندم کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی گندم کی ضروریات سے وفاق کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سندھ نے کم از کم 2 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم طلب کی۔ خیبرپختونخوا نے سرکاری ضروریات کے لیے ایک لاکھ ٹن اور نجی شعبے کے لیے مزید 7 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں گندم کی دستیابی، ذخائر اور مستقبل کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کے امکان پر بھی غور کیا تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تمام صوبوں کی جانب سے تحریری طور پر اپنی حتمی ضروریات سے آگاہ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ صورتحال پیدا ہونے کی بڑی وجوہات میں دو اہم فیصلے شامل ہیں۔ پہلی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت دو سال قبل امدادی قیمت کے نظام کا خاتمہ اور دوسری وجہ پنجاب اور سندھ کی جانب سے رواں سال کسانوں سے مطلوبہ مقدار میں گندم نہ خریدنا ہے۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے اجلاس میں واضح کیا کہ حکومت مقامی کسانوں کے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گی اور اگر درآمد کا فیصلہ کرنا پڑا تو وہ بھی تمام معاشی اور زرعی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ملک میں 2 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ گزشتہ سال کے تقریباً 20 لاکھ ٹن ذخائر بھی موجود ہیں۔ مجموعی طور پر دستیاب گندم ملکی ضرورت سے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ٹن زیادہ ہے تاہم صوبائی سطح پر خریداری کے اہداف پورے نہ ہونے کے باعث تقسیم اور ذخیرہ اندوزی کے مسائل سامنے آئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت 30 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف حاصل نہ کر سکی اور صرف 4 لاکھ 80 ہزار ٹن گندم خریدی جبکہ سندھ بھی تقریباً 2 لاکھ ٹن گندم ہی خرید سکا۔اجلاس میں سندھ نے پنجاب سے بین الصوبائی گندم کی نقل و حمل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی درخواست بھی کی تاہم پنجاب نے محدود ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے اس مطالبے سے اتفاق نہیں کیا۔
ادھر گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 40 کلو گندم کی قیمت 4 ہزار 423 روپے، سندھ میں 4 ہزار 625 روپے، خیبرپختونخوا میں 5 ہزار 100 روپے اور بلوچستان میں 4 ہزار 800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کراچی میں آٹے کی قیمت 142 روپے فی کلو جبکہ گوجرانوالہ میں 130 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔