ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 2 راتوں سے امریکا نے اپنے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، امریکا اسٹریٹیجک فیصلہ سازی کے حوالے سے واضح تھکن اور بے سمتی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
امریکا حکمتِ عملی سے محروم، ایرانی فوجی ترجمان کا دعویٰ
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرامینیا نے کہا کہ گزشتہ 2 راتوں کے دوران امریکا کی جانب سے حملے روکے جانے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
جب ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا اس اقدام کا مطلب یہ لیا جائے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسٹریٹیجک فیصلہ سازی کے معاملے میں واضح تھکن کا شکار ہے اور اس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں، جس کی جھلک امریکی صدر کے فیصلوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجی کمان کی کارکردگی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
2 ہفتوں کی لڑائی میں ایرانی فوجی حکمتِ عملی کیا رہی؟
فوجی ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 14 سے 15 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی فوجی کارروائیوں کی چند نمایاں خصوصیات تھیں، جن میں حملوں کا مرکزی نشانہ امریکی ریڈار تنصیبات اور معاونتی مراکز رہے، تاکہ امریکا کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔
ان کے مطابق ایران نے اس پورے عرصے میں یہ کوشش بھی جاری رکھی کہ امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکا کا نیا حملوں کا منصوبہ مؤخر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے فی الحال ایران کے خلاف مزید وسیع پیمانے پر حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔
اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں آنے والی نمایاں کمی بتائی جا رہی ہے، جس نے امریکی حکام کو نئی جارحانہ کارروائی سے قبل احتیاط برتنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکا آبنائے ہرمز میں مقاصد حاصل کرنے میں ناکام
ایرانی فوج کے ایک اور ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز اور ایران کو کمزور کرنے کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور موجودہ صورتحال امریکا کے لیے انتشار اور ناکامی کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
ان کے بقول واشنگٹن اب نئی حکمتِ عملی کی تلاش میں مصروف ہے، تاہم امریکا کی جنگ سے ممکنہ دستبرداری کا انحصار بھی اسرائیل کی منظوری پر ہوگا۔
عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مذاکرات میں پیش رفت
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور محفوظ بحری آمدورفت سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ان کے مطابق تہران میں ایرانی اور عمانی نائب وزرائے خارجہ کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے ساحلی ریاستوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے جہاز رانی کے محفوظ نظام پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات مفید رہے اور تکنیکی و سیاسی سطح پر مشاورت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی صورتحال میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر جلد کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کیے تھے، جن کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کے جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا بتایا گیا تھا۔
ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اعلیٰ حکام شہید ہوئے، جس کے بعد ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اڈوں، اسرائیل اور خطے کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی طے پائی، جس کے بعد جون کے وسط میں دونوں ممالک کے مابین ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس میں 8 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے ذریعے وسیع تر امن معاہدے تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔
جولائی کے اوائل میں بھی امریکی حملے
تاہم اس دوران کشیدگی میں کئی بار اضافہ دیکھنے میں آیا اور جولائی کے اوائل میں بھی امریکا کی جانب سے نئے حملے کیے گئے، جس سے جنگ بندی کو شدید دھچکا لگا۔ آبنائے ہرمز کا مستقبل تاحال دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سب سے بڑا اور حساس ترین نکتہ بنا ہوا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمانوں کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران اپنے آپ کو موجودہ صورتحال میں سفارتی و عسکری برتری کی پوزیشن پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر امریکی حکمتِ عملی کو غیر واضح اور غیر مستحکم قرار دے کر۔
تاہم زمینی حقائق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور جنگ بندی کا سلسلہ کئی بار متاثر ہو چکا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حالات ابھی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
امریکی دفاعی ذخائر میں کمی کا انکشاف اہم ہے، کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طویل تنازع کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں رہا، اور امریکا کے لیے بھی وسیع پیمانے پر نئی کارروائی کا فیصلہ اب سادہ نہیں رہا۔