امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں جمعہ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ماہانہ بنیاد پر دونوں بڑے آئل بینچ مارکس تقریباً 20 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بہتری کے اشاروں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کو کسی حد تک متوازن کر دیا، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.03 ڈالر یا 1.2 فیصد کمی کے بعد 88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.50 ڈالر یا 1.8 فیصد سستا ہو کر 82.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹی تجزیہ کار ڈینیل ہائنس کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں جغرافیائی کشیدگی برقرار ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی روانی میں اضافے کے باعث مارکیٹ کو کچھ اطمینان ملا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کثیرالملکی دفاعی اتحاد قائم کرلیا ، مجوزہ اتحاد باب المندب، بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں دفاعی تعاون کو فروغ دے گا۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔
20 جولائی کو حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سعودی آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ریاض کو آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپنی تیل برآمدات کا رخ بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی جانب موڑنا پڑا۔