امریکا نے قومی سلامتی اور سائبر سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے چین میں تیار ہونے والے نئے ہیومنائیڈ روبوٹس، چار ٹانگوں والے روبوٹک ڈاگز اور پاور اِنورٹرز کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کو مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹکس کے شعبے میں امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ٹیکنالوجی کشیدگی کا ایک اور اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کی قائم کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بیرون ملک تیار ہونے والے جدید روبوٹس اہم پابندی کے لیے سائبر سیکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ امریکی شہریوں کی سلامتی اور سپلائی چین بھی متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔
ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد امریکا کی اہم سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان مصنوعات کے نئے ماڈلز پر لاگو ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ کی امریکا آمد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے امتحان کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ میں چین کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے۔ تحقیقی ادارے اومڈیا کے مطابق 2025 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 15 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس فروخت کیے گئے، جن میں چینی کمپنیوں یونی ٹری اور ایجی بوٹ نے پانچ، پانچ ہزار سے زائد روبوٹس فراہم کیے، جبکہ امریکی کمپنیوں ٹیسلا اور فگر اےآئی کی مجموعی فروخت چند سو یونٹس تک محدود رہی۔
سرمایہ کاری کے ادارےمارگن سٹینلے کے تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 2030 تک چین کی ہیومنائیڈ روبوٹ مارکیٹ کا حجم 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی پابندیوں سے چینی کمپنیوں کو ایک اہم مارکیٹ ضرور متاثر ہوگی، تاہم اس سے چین کی مجموعی ترقی کی رفتار میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔
امریکی پابندی صرف روبوٹس تک محدود نہیں بلکہ پاور اِنورٹرز کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ آلات شمسی توانائی، ڈیٹا سینٹرز اور گھریلو برقی نظام میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ماہرین توانائی کے شعبے پر بھی اس فیصلے کے اثرات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
یہ اقدام چین کے خلاف امریکی پابندیوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ اس سے قبل امریکا چینی ڈرونز کی درآمد محدود کر چکا ہے، جدید امریکی ٹیکنالوجی کی چین کو برآمد پر بھی قدغن عائد کی جا چکی ہے، جبکہ اب چینی اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈلز پر مزید پابندیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے نام پر تحفظ پسندی قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ امریکا چینی کمپنیوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے بقول بیجنگ اپنے کاروباری اداروں کے قانونی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ ایسی پابندیاں امریکی صارفین اور کمپنیوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان جاری مشترکہ منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ حال ہی میں نویڈا نے ایک ہیومنائیڈ روبوٹ ریفرنس ڈیزائن متعارف کرایا تھا، جس میں چینی کمپنی یونی ٹریکے روبوٹک ڈھانچے کا استعمال کیا گیا۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع پہلے ہی یونی ٹری سمیت متعدد چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ان اداروں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے جن پر چینی فوج سے روابط کے الزامات ہیں، جنہیں چین مسلسل مسترد کرتا آ رہا ہے۔