ابوظہبی ورلڈ جوجِٹسو چیمپیئن شپ، پاکستان نے 2 گولڈ اور 1 برانز میڈل جیت لیا

ابوظہبی ورلڈ جوجِٹسو چیمپیئن شپ، پاکستان نے 2 گولڈ اور 1 برانز میڈل جیت لیا

ابوظہبی ورلڈ جوجِٹسو چیمپیئن شپ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماسٹرز کیٹیگری میں پہلی بار شرکت کے دوران ہی 2 گولڈ میڈلز اپنے نام کر لیے ہیں۔

سابق ایشین چیمپیئن ابو ہریرہ اور محمد عمار نے یہ تاریخی کامیابی حاصل کی، جب کہ انڈر 21 کیٹیگری میں محمد یوسف اور محمد عمر نے برانز میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کر دیا۔

تاریخی کامیابی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں جاری عالمی جوجِٹسو چیمپیئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔

ماسٹرز کیٹیگری میں پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار حصہ لیا اور پہلے ہی ایونٹ میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے میڈلز کا تحفہ دیا۔

سابق ایشین چیمپیئن ابو ہریرہ اور محمد عمار نے ماسٹرز کیٹیگری کے ڈیو اور ڈیو شو ایونٹس میں حریفوں کو پچھاڑتے ہوئے 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام کیے۔

ان کی یہ فتح نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ پاکستانی جوجِٹسو کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

انڈر 21 کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ

دوسری جانب انڈر 21 کے مقابلوں میں بھی پاکستانی نوجوانوں نے شاندار جوہر دکھائے۔ محمد یوسف اور محمد عمر نے انڈر 21 ڈیو کیٹیگری میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے برانز میڈل حاصل کیا۔

فیڈریشن کے مطابق یہ دونوں باصلاحیت کھلاڑی انڈر 21 ڈیو شو کیٹیگری میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جن سے مزید کامیابیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں جوجِٹسو کا سفر

پاکستان میں جوجِٹسو کا کھیل پچھلے کچھ سالوں سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ وسائل کی کمی اور حکومتی سرپرستی کے فقدان کے باوجود، یہاں کے کھلاڑی اپنی مدد آپ کے تحت بین الاقوامی سطح پر ملک کا پرچم بلند کرتے آ رہے ہیں۔

پاکستان جوجِٹسو فیڈریشن کے چیئرمین خلیل احمد خان کی دن رات کی محنت اور کھلاڑیوں کا جذبہ رنگ لے کر آ رہا ہے، جس کا واضح ثبوت ابو ظہبی کے اس میگا ایونٹ میں حاصل ہونے والی یہ فتوحات ہیں۔

اس سے قبل بھی ایشیائی اور عالمی مقابلوں میں پاکستانی کھلاڑی مدبرانہ کھیل پیش کر چکے ہیں، مگر ماسٹرز کیٹیگری میں یہ پہلی شرکت تھی جو سنہری کامیابی پر منتج ہوئی۔

چیئرمین پاکستان جوجِٹسو فیڈریشن کا ردعمل

پاکستان جوجِٹسو فیڈریشن کے چیئرمین خلیل احمد خان نے قومی ایتھلیٹس کی اس شاندار کامیابی پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں نے دنیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے مقابلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑی ملک کا نام روشن کرتے رہیں گے۔

اس کامیابی کے پاکستان اسپورٹس پر اثرات

اگر اس پوری کامیابی کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، مسئلہ صرف مناسب تربیت اور پلیٹ فارم کا ہے۔

کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں میں جب بھی ہمارے نوجوانوں کو مواقع ملے ہیں، انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ابو ظہبی میں ماسٹرز کیٹیگری میں پہلی بار شرکت اور پھر گولڈ میڈلز کا حصول اس بات کی علامت ہے کہ اگر اسپورٹس بورڈ اور حکومت اس کھیل پر تھوڑی سی توجہ اور مالی معاونت فراہم کریں، تو پاکستان جوجِٹسو میں عالمی سپر پاور بن سکتا ہے۔ یہ کامیابی ملک کے نوجوانوں میں اس کھیل کے حوالے سے مزید دلچسپی پیدا کرے گی۔

Related Articles