عینک والا جن کے خالق کا بڑا الزام، میری تخلیق پر ڈاکا ڈالا گیا

عینک والا جن کے خالق کا بڑا الزام، میری تخلیق پر ڈاکا ڈالا گیا

پاکستان کے مقبول بچوں کے کامیڈی ڈرامہ ’عینک والا جن‘ کے خالق اور ہدایت کار حفیظ طاہر نے ان کی تخلیق پر مبنی اے آئی فلم بغیر اجازت بنانے پر شدید ردعمل دیا ہے۔

حفیظ طاہر نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ شدید صدمے اور غصے میں ہیں کیونکہ ان کی زندگی بھر کی تخلیقی محنت کو بغیر اجازت استعمال کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک فلم تیار کی گئی، جسے سنیما گھروں میں بھی ریلیز کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’عینک والا جن‘ ان کا تخلیق کردہ تصور ہے، وہ اس کے کانسیپٹ رائٹر، نام تجویز کرنے والے اور ہدایت کار بھی ہیں۔ ان کے بقول یہ ڈرامہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لیے بنایا، جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور ادارے کے لیے بھی بڑی کامیابی ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:اقرا عزیز نے بیٹی کے نام کے ساتھ پہلی بار چہرہ بھی دکھا دیا،پہلی جھلک سامنے آگئی

حفیظ طاہر کا کہنا تھا کہ فلم ساز فرحان خان نے نہ تو ان سے اس منصوبے کے لیے اجازت لی اور نہ ہی فلم کے میڈیا پارٹنر پی ٹی وی نے انہیں اس پروڈکشن کا حصہ بننے کی دعوت دی۔

انہوں نے فلم میں اصل کرداروں کی پیشکش پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے ذریعے کرداروں کی شکل و صورت تبدیل کر دی گئی، خصوصاً نسطور جن کے کردار کو اصل انداز سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق فلم میں استعمال ہونے والی آوازیں اور موسیقی بھی غیر معیاری ہیں، جس سے اصل تخلیق کی روح متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تابش ہاشمی نے جیو نیوز سے 5 سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کر دیا

واضح رہے کہ ’عینک والا جن‘ پی ٹی وی کا مقبول بچوں کا کامیڈی ڈرامہ تھا، جو 1993 سے 1996 تک نشر ہوا۔ منفرد کرداروں، دلچسپ کہانی اور فینٹسی عناصر کی بدولت یہ سیریل بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں میں بھی بے حد مقبول رہی اور آج بھی پاکستان کے یادگار ڈراموں میں شمار کی جاتی ہے۔

editor

Related Articles