امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران کے خلاف جاری جنگ زیادہ عرصہ نہیں چلے گی اور بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عالمی اور امریکی توانائی کی منڈیوں پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ تنازع زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران طویل مدت تک اس جنگ کو جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے اور جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ایران پر پڑنے والے دباؤ کے باعث موجودہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار رہنا ممکن نہیں۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک الگ بیان میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ وزیر دفاع کی کارکردگی سے انتہائی مطمئن ہیں اور ان کے بقول ایران کے خلاف کارروائیاں اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب رہی ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایسا نقصان پہنچایا گیا ہے جس کا مقصد اسے مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکمت عملی مؤثر ثابت ہوئی ہے اور صورتحال ان کے مطابق بہتر سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
تاہم ایرانی حکام متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جنگ کے مستقل خاتمے سے متعلق امریکا کے ساتھ فی الحال کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔