اے آئی کا مستقبل کتنا محفوظ؟ گوگل کی تشویشناک پیش گوئی سامنے آ گئی

اے آئی کا مستقبل کتنا محفوظ؟ گوگل کی تشویشناک پیش گوئی سامنے آ گئی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ فوائد اور خطرات پر عالمی سطح پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈینس آفیسر لیلا ابراہیم نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے انسانی نسل کو لاحق وجودی خطرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک انٹرویو میں لیلا ابراہیم نے کہا کہ اگرچہ اس خطرے کی درست شرح بیان کرنا ممکن نہیں تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ایسا کوئی امکان موجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی رفتار سے ہونے والی ترقی کے پیش نظر اس کے ممکنہ اثرات پر مسلسل سنجیدہ گفتگو اور مؤثر حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :مصنوعی ذہانت اور روبورٹس کی مدد سے تعمیر ہونے والا حیران کن ہائیڈرو منصوبہ

انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں وہ ان ماہرین میں شامل تھیں جنہوں نے سینٹر فار اے آئی سیفٹی کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ اس اعلامیے میں زور دیا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ وجودی خطرات کو کم کرنا عالمی برادری کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ایٹمی جنگ یا عالمی وباؤں جیسے خطرات سے نمٹنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اے آئی ماہرین کے خدشات برقرار

مصنوعی ذہانت کے میدان سے وابستہ کئی معروف ماہرین اس سے پہلے بھی ایسے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس شعبے کے ممتاز سائنس دان جیفری ہنٹن، جنہیں مصنوعی ذہانت کا گاڈ فادر بھی کہا جاتا ہے ماضی میں یہ رائے دے چکے ہیں کہ آئندہ تین دہائیوں کے دوران مصنوعی ذہانت انسانی بقا کے لیے 10 سے 20 فیصد تک خطرہ بن سکتی ہے۔

اسی طرح مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو امودی بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو مناسب حفاظتی اصولوں کے تحت نہ چلایا گیا تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

مرحوم سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے بھی کئی برس قبل مصنوعی ذہانت کی بے قابو ترقی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس شعبے میں احتیاط اور عالمی تعاون ضروری ہے۔

مستقبل سے متعلق غیر حقیقی دعوؤں پر احتیاط

لیلا ابراہیم نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی پرامید پیش گوئیوں پر بھی محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مستقبل میں روبوٹس تمام انسانی کام سنبھال لیں گے، دولت کی اہمیت ختم ہو جائے گی یا انسان بڑی تعداد میں خلا میں آباد ہو جائیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں:’اے آئی ‘ ٹیکنالوجی ایک قدم اور آگے، میٹا نے ڈسپلے والی پہلی اسمارٹ عینک متعارف کرا دی

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی ضرور تیزی سے ہو رہی ہے لیکن مستقبل کے بارے میں قطعی دعوے کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرنا زیادہ مناسب ہے۔

مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے

لیلا ابراہیم کے مطابق مصنوعی ذہانت کا اصل مقصد ایسے عالمی مسائل کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے جو پوری دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں اے آئی کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ اس ٹیکنالوجی سے پوری انسانیت کو یکساں فائدہ پہنچنا چاہیے۔ ان کے بقول مصنوعی ذہانت کی ترقی اسی وقت کامیاب سمجھی جائے گی جب اس کے ثمرات محفوظ، منصفانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچیں۔

editor

Related Articles