شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنا دی

شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق عدالت نے بشار الاسد کے خلاف شام میں 14 سالہ تنازع کے دوران ہونے والے سنگین جرائم سے متعلق مقدمے میں فیصلہ سنایا۔

بشار الاسد دسمبر 2024 میں اقتدار سے معزولی کے بعد شام سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے، اسی وجہ سے وہ مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت میں موجود نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:سابق شامی صدر بشار الاسد کو روس میں مبینہ طور پر زہر دیے جانے کا انکشاف

ماہر الاسد، عاطف نجیب کو بھی سزائے موت

عدالت نے سابق صدر کے بھائی ماہر الاسد کو بھی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی، جبکہ سابق سیکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت دی گئی۔

عاطف نجیب کا تعلق درعا میں ہونے والی کارروائیوں سے بتایا جاتا ہے، جو 2011 میں شام میں شروع ہونے والی بغاوت کے ابتدائی واقعات میں شامل تھیں۔

مزید پڑھیں:بشار الاسد کی حکومت گرانے والے ابو محمد الجولانی کون ہیں؟

رپورٹس کے مطابق بشار الاسد اور دیگر سابق حکومتی عہدیداروں پر شہریوں کے خلاف سنگین جرائم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالت کا یہ فیصلہ سابق اسد حکومت کے عہدیداروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سزائے موت سنایا جانا اور سزا پر عمل درآمد ہونا 2 الگ مراحل ہیں۔ بشار الاسد اس وقت شام سے باہر ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں یہ عدالتی فیصلہ سنایا گیا ہے۔

Related Articles