خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طویل حکمرانی کے خلاف عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جہاں عوام نے صوبائی حکومت کی بدترین بدانتظامی، بڑھتی ہوئی کرپشن اور غلط سیاسی ترجیحات کو صوبے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ حکومتی کارکردگی جلسے، جلوسوں اور دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ گراؤنڈ پر عوام کو بنیادی حقوق تک میسر نہیں۔
عوامی ردعمل اور زمینی حقائق
صوبے کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والی آوازوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام موجودہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں۔ شہریوں کا شکوہ ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی کام کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے۔
عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی امن و امان یا عوامی مسائل پر بات کرنے کی بجائے صرف سیاسی دنگل اور احتجاجی سیاست میں مصروف رہتے ہیں۔
کبھی ایک تاریخ اور کبھی دوسری تاریخ دے کر بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے دنگے فساد اور چوکوں پر جانے کی سیاست کی جا رہی ہے، جبکہ عام آدمی روٹی، روزگار اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہا ہے۔
مالیاتی فنڈز اور کرپشن کے سنگین الزامات
عوامی حلقوں کی جانب سے یہ انکشافات بھی کیے گئے ہیں کہ خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3,114 ارب روپے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مد میں 3,774 ارب روپے کی خطیر رقم ملی ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کی حالت زار میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ملنے والے فنڈز کے باوجود زمینی سطح پر بدامنی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، اور پولیس کو نہ تو جدید اسلحہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی نئے تھانے تعمیر کیے گئے۔
مزید برآں، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کا جو حق بنتا تھا، وہ بھی قبائلی علاقوں پر خرچ نہیں کیا گیا، جس سے محرومیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری سطح پر تبادلوں اور تقرریوں کے معاملات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی شکایت ہے کہ ٹرانسفرز میں مبینہ طور پر پیسے لیے جاتے ہیں اور جو رشوت نہ دے اس کا تبادلہ نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ خود ان کے اپنے ارکانِ اسمبلی بھی اس نوعیت کے کرپشن کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
صوبے میں جاری غیر قانونی مائننگ کے خلاف بھی کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔
بنیادی سہولیات کا فقدان اور بڑھتی ہوئی بدامنی
خیبر پختونخوا میں اس وقت زندگی کا ہر شعبہ شدید زبوں حالی کا شکار ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ صوبہ بغیر کسی حکومت کے چل رہا ہے اور یہاں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
تعلیم و صحت
تعلیمی اداروں کا نظام تباہ ہو چکا ہے جبکہ اسپتالوں میں صحت کی بنیادی سہولیات اور ادویات کا شدید فقدان ہے۔
انفراسٹرکچر
سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ پھوت کا شکار ہے جس سے آمدورفت مشکل ہو گئی ہے۔
بدامنی
صوبے کا سب سے بڑا ناسور بڑھتی ہوئی بدامنی ہے، جس نے امن و امان کی صورتحال کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پچھلے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت چلی آ رہی ہے، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صوبے میں گورننس کا ایک نیا نظام نافذ کریں گے۔
تاہم، وفاق کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی، سیاسی عدم استحکام، اور انتظامی ترجیحات کی تبدیلی کے باعث صوبائی ترقی کے منصوبے پیچھے رہ گئے۔
حالیہ برسوں میں مالیاتی بدانتظامی، فنڈز کے درست استعمال نہ ہونے اور صوبائی قیادت کی جانب سے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی وجہ سے کے پی کے اندرونی طور پر شدید اقتصادی و انتظامی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس پر عوام اب کھل کر پھٹ پڑے ہیں۔
سیاسی ناپختگی اور گورننس کا بحران
اس صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
جب کسی صوبے کی حکومت کا مرکز یا توجہ عوام کی خدمت کی بجائے صرف سیاسی احتجاج، دھرنوں اور ذاتی یا گروہی مفادات پر مرکوز ہو جائے، تو وہاں یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اربوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود اگر پولیس کے پاس وسائل نہ ہوں اور قبائلی اضلاع ترقی سے محروم رہیں، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد میں کہیں بہت بڑا نقص موجود ہے۔
تبادلوں میں مالی لین دین اور غیر قانونی مائننگ جیسے اسکینڈلز نے شفافیت کے تمام دعوؤں کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ اگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے فوری طور پر اپنی ترجیحات کو تبدیل نہ کیا اور سیاسی بیان بازی کی بجائے زمینی مسائل پر توجہ نہ دی، تو عوامی اشتعال مزید بڑھ سکتا ہے جو صوبے کو ایک ناقابلِ تلافی سیاسی اور سماجی بحران کی طرف دھکیل دے گا۔