چٹان میں پیوست 900 سال پرانی تلوار، صدیوں بعد بھی راز برقرار

چٹان میں پیوست 900 سال پرانی تلوار، صدیوں بعد بھی راز برقرار

کنگ آرتھر کی مشہور داستانوں سے کئی صدیاں قبل اٹلی میں ایک جنگجو گالگانو گائیڈوتی سے متعلق ایسا واقعہ پیش آیا جس کی یاد آج بھی ایک قدیم چیپل میں محفوظ ہے۔

روایت کے مطابق گالگانو ایک دولت مند مگر جنگجو مزاج شخص تھا۔ تاہم ایک روحانی تجربے کے بعد اس کی زندگی بدل گئی اور اس نے تشدد ترک کرکے امن کی زندگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ نئی زندگی سے اپنی وابستگی ثابت کرنے کے لیے گالگانو نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا تو ’تلوار سے چٹان چیرنے‘ جتنا آسان ہوگا۔ اس کے بعد اس نے اپنی تلوار ایک سخت چٹان میں اتار دی، جہاں وہ آج تک موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا سب سے بڑا پھول، اسے ’لاش کا پھول‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

یہ تلوار اٹلی کے شہر چیوسڈینو کے قریب واقع مونتی سیپی چیپل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تلوار کا زیادہ تر حصہ چٹان کے اندر ہے جبکہ صرف دستہ باہر دکھائی دیتا ہے، جو صلیب کی شکل بناتا ہے۔ اس واقعے کو طویل عرصے تک محض ایک مذہبی داستان یا بعد میں بنائی گئی جعلی چیز قرار دیا جاتا رہا۔ تاہم بعد میں ہونے والی سائنسی تحقیقات نے تلوار کی تاریخ کے حوالے سے دلچسپ شواہد پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں:کسان نے چٹان سمجھا، نکلا دنیا کا سب سے بڑا شہابِ ثاقب

تحقیقات میں تلوار کے دھاتی حصے اور اس کے انداز کو 12ویں صدی سے منسوب کیا گیا، جبکہ چیپل کے قریب سے ملنے والے حنوط شدہ ہاتھوں کی باقیات بھی اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔

یوں چٹان میں پیوست یہ تلوار آج بھی ایک ایسا تاریخی معمہ بنی ہوئی ہے جس نے صدیوں سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے۔ تاہم اس واقعے سے جڑی روحانی روایت اور تلوار کو چٹان میں داخل کرنے کے اصل طریقے کے بارے میں حتمی سائنسی وضاحت اب بھی بحث کا موضوع ہے۔

editor

Related Articles