پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپ میں سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی میں شدید جھگڑا، سنگین الزامات

پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپ میں سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی میں شدید جھگڑا، سنگین الزامات

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے واٹس ایپ گروپ میں سینیٹر مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت الزامات عائد کیے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے دوران سینیٹر مشال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے پارلیمنٹیرینز کے کردار پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹیرینز کا اصل کام عدالتوں کے اندر نہیں بلکہ عدالتوں کے باہر ہے جبکہ عدالت کے اندر دباؤ بار کونسل کے ارکان کو بنانا چاہیے۔

مشال یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کو مبینہ طور پر پیسے لے کر پارٹی ٹکٹ دیے گئے جبکہ سازشوں اور گروپ بندی کے ذریعے ایسے وکلا کو ممبر بنایا گیا جن کا آئی ایل ایف سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے سلمان اکرم راجہ پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں میں اضافہ کیا گیا اور کروڑوں روپے کی کنسلٹنسی لی گئی۔ مشال یوسفزئی نے سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی اور بانی پی ٹی آئی کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہے تو بار کونسل کے ارکان کا کردار کہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ کے چارجز میں کیا تبدیلی ہوئی ؟ اہم تفصیلات آ گئیں

مشال یوسفزئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اکاؤنٹ کو مبینہ طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے حق میں ٹوئٹس کیے گئے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران پارٹی کے اندر مبینہ سازشوں اور گروپ بندی کا بھی ذکر کیا۔

مشال یوسفزئی کے الزامات پر سلمان اکرم راجہ نے سخت ردعمل دیا اور کہا کہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جس پر کوئی انگلی اٹھا سکے۔

سلمان اکرم راجہ نے مشال یوسفزئی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے واضح طور پر سامنے لایا جائے اور بتایا جائے کہ انہوں نے کون سا ایسا کام کیا ہے جسے سازش قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ انہیں پانچ سال کی عمر سے جانتے ہیں اور انہوں نے اپنی پوری زندگی سچ اور ہمت کے ساتھ گزاری ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ان کی سیاسی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں کسی کو بھی سوال اٹھانے سے پہلے حقائق سامنے رکھنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی جیل میں بڑی خواہش پوری کر دی گئی

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں پارٹی کے اندر وکلا کے کردار، عدالتی معاملات، پارٹی ٹکٹوں، مبینہ گروپ بندی اور مالی معاملات سمیت متعدد معاملات زیر بحث آئے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وکلا ایک عرصے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے قانونی معاملات کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ پارٹی کے سیاسی اور قانونی معاملات میں وکلا کی سرگرمیوں کے باعث ان کے کردار پر اندرونی سطح پر مختلف آرا بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

تاہم واٹس ایپ گروپ میں عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے تاحال کوئی آزادانہ ثبوت یا پارٹی کی جانب سے باضابطہ تحقیقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر کوئی کارروائی کرے گی یا دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو اندرونی معاملہ سمجھ کر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں ہونے والی یہ گفتگو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پارٹی کو بانی پی ٹی آئی کے قانونی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور تنظیمی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں معاملہ پارٹی کے اندر مزید بحث کا باعث بن سکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles