وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی کے لیے ایک بار پھر پیپلزپارٹی سے رابطہ کرلیا جبکہ پیپلزپارٹی نے حکومتی درخواست پر غور کے لیے مہلت مانگ لی ہے اور آج اپنے جواب سے آگاہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق قانون سازی کے معاملے پر اہم پیش رفت گزشتہ رات ایوان صدر میں ہونے والی مشاورتی ملاقات کے دوران ہوئی جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا۔
ایوان صدر میں اہم مشاورتی اجلاس
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ایوان صدر میں قانون سازی کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری فریال تالپور سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل منصور اعوان سمیت اہم حکومتی شخصیات شریک ہوئں
ملاقات کے دوران اٹارنی جنرل منصور اعوان اور حکومتی شخصیات نے مجوزہ قانون سازی سے متعلق صدر مملکت اور دیگر شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کے دوران اہم قانون سازی آگے بڑھانے کے لیے پیپلزپارٹی کی حمایت طلب کی گئی۔
پیپلزپارٹی نے وقت مانگ لیا
حکومت کی جانب سے قانون سازی میں تعاون کی درخواست پر پیپلزپارٹی نے فوری طور پر حتمی جواب دینے کے بجائے معاملے پر غور کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت مجوزہ قانون سازی کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومتی درخواست کا جواب جلد متوقع ہے۔
حکومت کیلئے اتحادی کی حمایت اہم
قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی کے لیے حکومتی اتحاد کو پیپلزپارٹی کی حمایت خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے قانون سازی سے قبل پیپلزپارٹی کی قیادت سے مشاورت اور حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں زیر غور اہم معاملات کو اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات اور اس کے سیاسی و قانونی اثرات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے موقف کا اعلان کرے گی۔
اب نظریں پیپلزپارٹی کے آج کے جواب پر مرکوز ہیں کہ وہ حکومت کو قانون سازی میں حمایت فراہم کرتی ہے یا مزید مشاورت کا راستہ اختیار کرتی ہے