سپریم کورٹ کے عمران خان سے متعلق فیصلے پر بلاول بھٹو بھی بول پڑے

سپریم کورٹ کے عمران خان  سے متعلق فیصلے پر  بلاول بھٹو بھی بول پڑے

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی بھی بیمار قیدی کو علاج کی سہولت ملنا اس کا بنیادی حق ہے، یہ معاملہ سپریم کورٹ تک نہیں جانا چاہیے تھا بلکہ حکومت کو خود ہی اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف ہے کہ اگر کوئی قیدی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ بیماری کی صورت میں ہر قیدی کا حق ہے کہ اسے مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومتی وزرا کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہتے دیکھا ہے، تاہم یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک پہنچنے سے پہلے ہی حکومت کو حل کر لینا چاہیے تھا۔

پارلیمان کو درپیش خطرات کے حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پارلیمان کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے جمہوری اداروں کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کا ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر انتخابات ایک حساس علاقے کا معاملہ ہیں اور انتخابات جتنے غیر متنازع ہوتے، اتنا ہی بہتر ہوتا، لیکن موجودہ انتخابات اس کے برعکس زیادہ متنازع ہوئے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے صدر کی جانب سے پیپلز پارٹی پر حملہ کیا گیا جبکہ وفاقی وزرا کا پورا لشکر بھی وہاں موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے لوگوں کو گولیاں لگیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: بلاول کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

بلاول بھٹو نے کہا کہ ابھی انتخابات مکمل بھی نہیں ہوئے اور انتخابات متنازع ہو چکے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ن کو اتنی متنازع حکومت چاہیے تو انہیں مبارک ہو۔

دوسری جانب نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بھی بلاول بھٹو زرداری نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں اتفاق رائے نہیں ہوگا وہاں صوبے نہیں بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا نئے صوبے کے معاملے پر موقف واضح ہے۔ زور زبردستی سے کیا جانے والا فیصلہ نہ کل مانا تھا اور نہ آج تسلیم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عوام نے جن کاموں کے لیے نمائندوں کو ایوان میں بھیجا ہے، وہ ان ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

Related Articles