امریکا کا مجموعی قومی قرض تاریخ میں پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرگیا ہے جس کے بعد ملک کی طویل مدتی مالی پائیداری اور بڑھتے ہوئے قرضوں پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی قرض میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ رقم گزشتہ دہائی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 19 اگست 2026ء کو امریکی قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح سے تجاوز کرگیا۔ اس مجموعی رقم میں تقریباً 32.27 ٹریلین ڈالر عوام کے پاس موجود امریکی حکومتی سیکیورٹیز جبکہ تقریباً 7.78 ٹریلین ڈالر حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان واجب الادا قرض پر مشتمل ہیں۔
امریکا کے قومی قرض میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2017ء میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا، اس وقت ملک کا مجموعی قرض تقریباً 19.95 ٹریلین ڈالر تھا۔ موجودہ سطح کے مقابلے میں دیکھا جائے تو تقریباً ایک دہائی کے دوران امریکی قرض دوگنا ہوچکا ہے۔
قرض میں اضافے کی وجوہات میں حکومتی اخراجات، کورونا وبا کے دوران بڑے پیمانے پر کیے گئے مالی اقدامات، بجٹ خسارے، ٹیکس پالیسی اور قرض پر بڑھتا ہوا سود شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی حکومت کو ایک طرف سماجی پروگراموں اور دیگر لازمی اخراجات پورے کرنے ہیں جبکہ دوسری جانب قرض کی بڑھتی ہوئی لاگت بھی قومی بجٹ پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی حکومت کو قومی قرض پر سالانہ تقریباً 1.1 ٹریلین ڈالر سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ قرض پر سود کی یہ رقم وفاقی حکومت کے بڑے اخراجاتی شعبوں میں شامل ہوچکی ہے، جس سے مستقبل میں بجٹ کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی مالیاتی صورتحال میں ایک اور تشویش طویل مدتی شرح سود اور حکومتی بانڈز کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار 2007ء کے بعد بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال سے حکومت کے لیے مستقبل میں قرض لینا مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔
مالیاتی ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر قرض میں اضافے کی رفتار کو قابو نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں حکومت کو ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کمی یا دونوں جیسے مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کو فوری طور پر کسی مکمل مالیاتی بحران سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا، لیکن بڑھتا ہوا قرض امریکی معیشت کے لیے ایک اہم طویل مدتی خطرہ ضرور بنتا جارہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا قرض آئندہ بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ جون 2026ء میں امریکی کانگریس کی جوائنٹ اکنامک کمیٹی نے بھی بتایا تھا کہ مجموعی قومی قرض 39.20 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور اس میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 2.99 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔
یوں 40 ٹریلین ڈالر کا تاریخی سنگ میل امریکی معیشت کے لیے ایک اہم انتباہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو اب قرض کے حجم، سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں اور مسلسل بجٹ خسارے کے درمیان توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔