متحدہ عرب امارات نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متعدد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے کئی فضائی سروسز منسوخ یا معطل کردی ہیں۔ فضائی آپریشن میں یہ تبدیلیاں بالخصوص بحرین اور کویت کے لیے چلنے والی پروازوں پر اثر انداز ہوئی ہیں جبکہ بعض دیگر پروازیں تاخیر کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر مختلف ایئرلائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے روانہ ہونے سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال ضرور معلوم کریں۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بحرین اور کویت کے لیے پروازوں کے شیڈول میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اتحاد ایئرویز نے ابوظبی سے بحرین جانے والی متعدد پروازیں 21 اگست تک منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم کچھ فضائی سروسز معمول کے مطابق جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
دبئی سے بحرین کے لیے بھی امارات ایئرلائن کی دو پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ اسی طرح ایئر عربیہ نے شارجہ اور ابوظبی سے کویت اور بحرین کے لیے چلنے والی متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں۔ ان فیصلوں کے نتیجے میں مسافروں کو اپنی سفری منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے جبکہ ایئرپورٹس پر پروازوں کے اوقات میں تبدیلی اور تاخیر کا امکان بھی برقرار ہے۔
دوسری جانب فلائی دبئی کی کویت، بحرین اور سعودی عرب کے لیے فضائی سروسز جاری ہیں تاہم دبئی ایئرپورٹ پر بعض پروازوں کو تاخیر کا سامنا ہے۔ ایئرلائنز کی جانب سے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ پہنچنے سے پہلے متعلقہ کمپنی اور ایئرپورٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ہدایات اور پرواز کے اسٹیٹس کی تصدیق کریں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز نے بھی مشرق وسطیٰ کے مختلف روٹس پر اپنے فضائی آپریشن محدود یا عارضی طور پر معطل کیے ہیں۔ بعض فضائی کمپنیوں نے احتیاطی اقدام کے طور پر ایران، عراق اور اسرائیل کی فضائی حدود سے گریز شروع کردیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث خلیجی ممالک کے درمیان فضائی رابطوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے اور مسافروں کو ممکنہ تاخیر، روٹ میں تبدیلی یا پرواز کی منسوخی کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
ایئرلائنز نے مسافروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ایئرپورٹ جانے سے پہلے اپنی پرواز کے بارے میں تازہ معلومات حاصل کریں۔ جن مسافروں کی پروازیں برقرار ہیں انہیں بھی ممکنہ آپریشنل تبدیلیوں کے باعث مقررہ وقت سے پہلے ایئرپورٹ پہنچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل سمندر میں گرے۔ اس کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات اور مالی لین دین معطل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
موجودہ صورتحال کے باعث خلیجی خطے میں فضائی سفر متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں پروازوں کے شیڈول میں مزید تبدیلیوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ مسافروں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائن اور ایئرپورٹ سے براہ راست تازہ معلومات حاصل کریں۔