برطانیہ میں گھریلو اخراجات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث مہنگائی کی سالانہ شرح ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہے۔جولائی میں برطانیہ کی سالانہ مہنگائی 2.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اس سے ایک ماہ قبل جون میں یہ شرح 2.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ گھریلو توانائی کے اخراجات میں ہونے والا نمایاں اضافہ قرار دیا جارہا ہے جس نے شہریوں کے بجلی اور گیس کے بلوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات کے مطابق جولائی کے دوران صارف قیمتوں کے اشاریے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ ماہ گھریلو توانائی کے نرخوں کی مقررہ حد میں 13 فیصد اضافہ نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں گھروں کے لیے گیس اور بجلی کے اخراجات میں واضح اضافہ ہوا۔ توانائی کی قیمتوں میں اس تبدیلی نے پہلے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے برطانوی شہریوں کے ماہانہ بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گیس کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ تقریباً چار برس کے دوران سب سے نمایاں اضافے میں شمار کیا جارہا ہے۔ توانائی کے بل برطانوی گھرانوں کے بنیادی اخراجات میں شامل ہیں، اس لیے ان نرخوں میں اضافے کے اثرات صرف بجلی اور گیس کے بلوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مجموعی طور پر روزمرہ استعمال کی مختلف اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے بھی ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ان ممالک پر پڑتا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے عالمی منڈی پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے اثرات برطانیہ کے صارفین تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں گھریلو بجلی کے نرخوں پر ٹیکس میں کمی اور بس کرایوں کی حد مقرر کرنے جیسے فیصلے شامل ہیں۔ حکام کا مقصد شہریوں کے روزمرہ اخراجات کو کسی حد تک کم کرنا اور مہنگائی کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ کو محدود کرنا ہے۔
برطانوی وزیر خزانہ جان ہیلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا اثر برطانیہ میں قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ برطانوی معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں بلند رہیں تو آنے والے مہینوں میں برطانیہ کی مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے حوالے سے واضح پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔