ایک ہی کمپنی کے اسٹاک یا شیئرز میں ساری جمع پونجی لگا دینا خطرناک ، مگر کیوں؟

ایک ہی کمپنی کے اسٹاک یا شیئرز میں ساری جمع پونجی لگا دینا خطرناک ، مگر کیوں؟

سرمایہ کاری کرتے وقت سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون سا شیئر زیادہ منافع دے سکتا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی منتخب کردہ کمپنی کو اچانک بڑا دھچکا لگ جائے تو آپ کی جمع پونجی کا کیا ہوگا؟ ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ  اپنی تمام رقم ایک ہی کمپنی کے اسٹاک میں لگانا بظاہر منافع بخش فیصلہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایسا خطرہ جڑا ہوتا ہے جو ایک ہی جھٹکے میں برسوں کی بچت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں،  اس کا مطلب سادہ ہے کہ اگر ٹوکری گر جائے تو سارے انڈے ایک ساتھ ٹوٹ سکتے ہیں ، یہی اصول شیئر مارکیٹ اور اسٹاک میں سرمایہ کاری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اکثر عام سرمایہ کار جب کچھ اضافی رقم جمع کرتا ہے تو اسے کسی ایسی کمپنی میں لگانے کا سوچتا ہے جس سے اسے مستقبل میں بھاری منافع کی امید ہوتی ہے۔ تاہم مالیاتی ماہرین اور سرٹیفائیڈ فائنینشل پلانرز کے مطابق کسی ایک اسٹاک پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنا کنسنٹریشن رسک پیدا کرتا ہے۔

ایک کمپنی پر بھروسا کیوں خطرناک ہوسکتا ہے؟

امریکی ریاست ٹیکساس کے واچ مین گروپ سے وابستہ سرٹیفائیڈ فائنینشل پلانر اینڈریو ہرزوگ کے مطابق کسی ایک اسٹاک میں سرمایہ کاری بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی شخص کی مجموعی دولت کا بڑا حصہ صرف ایک کمپنی کے مستقبل سے منسلک ہوجائے۔

ان کے مطابق ایک کمپنی کے مستقبل کی درست پیش گوئی کرنا بڑے اور متنوع پورٹ فولیو کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے،  اسی لیے سرمایہ کاری میں خطرے کو مختلف اثاثوں اور کمپنیوں میں تقسیم کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔

اینڈریو ہرزوگ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں مشہور انڈیکس فنڈز کے بانی جان بوگل کا قول بھی نقل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے بجائے پورا گھاس کا ڈھیر ہی خرید لینا بہتر ہے۔

کمپنی اچھی ہو، پھر بھی نقصان کیسے ہوسکتا ہے؟

کسی کمپنی کی موجودہ کارکردگی اچھی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں بھی سب کچھ اسی طرح رہے گا۔ پنسلوانیا کے واشنگٹن فیملی ویلتھ کے ماہر جو پِسچور کے مطابق ایک کمپنی میں زبردست صلاحیت ہوسکتی ہے، لیکن اس کی کارکردگی کئی غیر متوقع عوامل سے متاثر ہوسکتی ہے۔

ان عوامل میں انتظامی تبدیلیاں، حکومتی قوانین، سخت مسابقت، قانونی مقدمات، مصنوعات سے متعلق مسائل اور مارکیٹ میں اچانک تبدیلیاں شامل ہیں یوں ایک بظاہر مضبوط کمپنی کا اسٹاک بھی کسی وقت شدید دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں؟ عالمی و مقامی مارکیٹ سے خبر آگئی

اوہائیو کے ہارویسٹ فائنینشل ایڈوائزرز سے وابستہ مونیکا ڈوئیر اس خطرے کو پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ ان میں قیادت کے مسائل، مصنوعات کا مقابلہ، قانونی و حکومتی تبدیلیاں، قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور مکمل تباہی کا خطرہ شامل ہیں۔

ایک جھٹکا پوری جمع پونجی ختم کرسکتا ہے

ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اچانک آنے والی شدید مندی یا کورونا وائرس جیسی وبا کے دوران ایک منافع بخش کمپنی بھی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔ اگر کمپنی دیوالیہ ہوجائے تو اس کے شیئر ہولڈرز کو اپنی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ، بلکہ بعض حالات میں پوری رقم بھی کھونا پڑ سکتی ہے۔

تاریخ میں انران نامی بڑی امریکی کمپنی کا دیوالیہ پن اس خطرے کی نمایاں مثال ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے تھے، اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف کمپنی کی موجودہ شہرت یا منافع کو دیکھ کر پوری دولت ایک ہی اسٹاک میں لگانا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

وقت بھی سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے

کینساس سٹی کی فائنینشل ایڈوائزر لیسا کلیمینٹس کے مطابق سرمایہ کاری کے خطرے میں وقت بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فرض کریں کسی ایک کمپنی کے شیئر کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہو اور عین اسی وقت سرمایہ کار کو اپنے روزمرہ اخراجات یا کسی ہنگامی ضرورت کے لیے رقم نکالنا پڑ جائے۔

ایسی صورت میں ممکن ہے کہ اسے نقصان کے باوجود اپنے شیئرز فروخت کرنا پڑیں۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسٹاک کی قیمت مستقبل میں واپس بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ سرمایہ کار کو رقم کس وقت درکار ہے۔

کیا انفرادی شیئرز نہ خریدیں؟ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انفرادی کمپنیوں کے شیئرز خریدنا چھوڑ دیے جائیں بلکہ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ کسی ایک کمپنی کے اسٹاک کو مجموعی سرمایہ کاری کا محدود حصہ رکھا جائے۔

فئیر فیلڈ کے سینئر ویلتھ ایڈوائزر بل شافرانسکی کے مطابق اگر کسی ایک کمپنی کے شیئرز کو ایک بڑے اور متنوع پورٹ فولیو یا فنڈز کے ساتھ شامل کیا جائے تو مجموعی خطرے کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح کسی ایک کمپنی کے اسٹاک میں کمی آنے کی صورت میں پورا سرمایہ ایک ساتھ متاثر نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ متنوع سرمایہ کاری کو مالی منصوبہ بندی میں اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔

مونیکا ڈوئیر کے مطابق رسک کم کرنے کے لیے کم از کم 19 سے 20 مختلف کمپنیوں میں رقم تقسیم کرنا ایک اچھا معیار ہوسکتا ہے ، اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک کمپنی کی خراب کارکردگی آپ کے پورے مالی مستقبل کو متاثر نہ کرسکے۔

آخرکار سرمایہ کاری میں صرف زیادہ منافع کمانا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے،  سرمایہ محفوظ رکھنا اور خطرے کو سمجھ کر فیصلہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے ، یہی وجہ ہے کہ تمام جمع پونجی ایک ہی اسٹاک میں لگانے کے بجائے سرمایہ کاری کو مختلف کمپنیوں اور فنڈز میں تقسیم کرنا زیادہ متوازن حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے۔

editor

Related Articles