ایران پر ممکنہ دوبارہ حملوں کے پیش نظر امریکی فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے وقت پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون نے کئی روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق فوج کو دی گئی ہدایت میں حملے شروع کرنے کی کوئی مخصوص تاریخ شامل نہیں تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تاحال حملوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل، جبکہ ممکنہ طور پر اسرائیلی انتخابات سے بھی پہلے ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوتی ہیں تو ایران کے توانائی کے شعبے، بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے تین سے چار ہفتوں کے دوران جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کے حکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امریکا اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اب معاملات دو طریقوں میں سے کسی ایک سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب دی اٹلانٹک نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعے کو ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے کیمپ ڈیوڈ میں کئی گھنٹے اجلاس کیا، جس میں ایران کے ساتھ جنگ سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں بھی تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ قطری ثالث ایران کے جواب کے منتظر ہیں، جبکہ امریکی جوابی تجویز میں ایران سے جوہری پروگرام کے معاملے پر مختلف رعایتیں دینے کا مطالبہ شامل ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی۔ حکام کے مطابق چند ہی روز میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری گفتگو تھی، جبکہ کئی ہفتوں تک دونوں کے درمیان رابطہ محدود رہا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو غالب امکان ہے کہ امریکا اور اسرائیل مشترکہ طور پر کارروائی کریں گے اور اسرائیلی فوج بھی ممکنہ آپریشن میں حصہ لے گی